اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):قومی ایئر لائن( پی آئی اے) وزارت خزانہ، نیشنل بنک ، سٹیٹ بینک، ریجنل ایکوپمنٹ مینو فیکچرر اور انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن(ایاٹا) کی مشاورت سے پانچ سالہ کاروباری پلان 23-2019 پر عمل پیرا ہے۔ قومی ایئر لائن کے حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ اس کاروباری پلان کا مقصد پرچم بردار بین الاقوامی ایئر لائن کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہے جس کے …
قومی ایئر لائن اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے پانچ سالہ کاروباری پلان پر عمل پیرا ہے، حکام

مزید خبریں
اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):قومی ایئر لائن( پی آئی اے) وزارت خزانہ، نیشنل بنک ، سٹیٹ بینک، ریجنل ایکوپمنٹ مینو فیکچرر اور انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن(ایاٹا) کی مشاورت سے پانچ سالہ کاروباری پلان 23-2019 پر عمل پیرا ہے۔ قومی ایئر لائن کے حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ اس کاروباری پلان کا مقصد پرچم بردار بین الاقوامی ایئر لائن کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہے جس کے لئے وزیر اعظم کی طرف سے جاری ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ پیشہ ورانہ خسارے میں کمی، مسافروں پر اعتماد سازی،آمدنومحصولات میں اضافے اور بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کےلئے پی آئی اے سی نے اپنے بیڑے کو اپ گریڈ کیا ہے اور ڈرائی لیز پر دو نیرو باڈی جہاز بھی بیڑے میں شامل کئے ہیں۔ ماضی قریب میں پی آئی اے نے کرائے پر جہاز حاصل کرنے کے بجائے اپنے طیاروں کے ذریعے حج پروازوں کے آپریشن مکمل کئے۔ حکام نے بتایا کہ سیالکوٹ۔پیرس، سیالکوٹ۔ بار سلونا، پشاور۔شارجہ، پشاور۔العین اور ملتان۔ شارجہ جیسے منافع بخش نئے فضائی روٹس کا آغاز کیا گیا ہے اور خسارے والے روٹس پر آپریشن معطل کرکے منافع بخش روٹس کے لئے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اسی دوران سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں گھوسٹ ملازمین اور جعلی ڈگریوں کے حامل عملہ کے ارکان کی برطرفیاں بھی عمل میں لائی گئیں اور ملازمین کی طبی سہولت کو سنٹرلائز کرکے اس مد میں اخراجات میں کمی لائی گئی۔








