اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے قومی تعمیر نو کے لئے حکومت، میڈیا اور پارلیمنٹ کردار ادا کریں ،عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارت پر دباﺅ بڑھائے حکومتی اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، حکومت اتحادیوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے چاہیں ، نواز شریف کوملک واپس آنا چاہیے، …
قومی تعمیر نو کے لئے حکومت، میڈیا اور پارلیمنٹ کردار ادا کریں ،عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارت پر دباﺅ بڑھائے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے قومی تعمیر نو کے لئے حکومت، میڈیا اور پارلیمنٹ کردار ادا کریں ،عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارت پر دباﺅ بڑھائے حکومتی اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، حکومت اتحادیوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے چاہیں ، نواز شریف کوملک واپس آنا چاہیے، پیر کو نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ قومی تعمیر نو کے لئے حکومت، میڈیا اور پارلیمنٹ کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حالات کی کی عکاسی کرنا میڈیا کا فرض ہے اور ضرورت پڑنے پر حکومت کی تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں پر بے پناہ ظلم ہو رہا ہے، بھارت کے رویہ پر مایوسی اور عالمی برادری کی خاموشی پر دکھ ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارت پر دباﺅ بڑھائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے کریڈٹ ریٹنگ ادارہ موڈیز نے پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کی ہے ۔ صدر نے کہا ہاﺅسنگ پراجیکٹ سے معیشت بہتر ہونے کا امکان ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہو تو کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، کوشش ہے کہ پارلیمنٹ میں سب جماعتوں کے ساتھ تعاون بڑھے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ہر سیشن میں عوام کا بہت پیسہ لگتا ہے اس لئے پارلیمنٹ کو عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات کوئی نئی بات نہیں ہے، حکومت کو اتحادیوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے چاہییں اور توقع ہے کہ حکومت معاملات سنبھال لے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں فوج کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف وعدہ کر کے بیرون ملک گئے ہیں، انہیں واپس آنا چاہیے، ان کا علاج مریم نواز کے بغیر بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے، نیب کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔آٹا بحران کے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت کو مافیاز سے نمٹنے کیلئے ہمت کرنا ہو گی، آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کی چھٹی ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ آٹے بحران پر کچھ گورننس کے مسائل تھے، آٹا جب باہر نہیں بیچنا چاہیے تھا بیچا گیا، قلت ہوئی تو منگوایا گیا اور یہ بات ٹھیک نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مشکلات اور پریشانیاں دور کرنے کیلئے مہنگائی کو کم کرنا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ بجلی اور دیگر چیزوں پر سبسڈی ختم کرنے سے مہنگائی بڑھی تاہم مہنگائی پر قابو پانے کی ضرورت ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ برآمدات میں 2 فیصد گروتھ بڑھی ہے اور آئی ٹی سیکٹر میں برآمدات بڑھنے کا زیادہ امکان ہے، صدرمملکت نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس پروگرام میں 40 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں، سیالکوٹ سے 3 ہزار اور لاہور سے 25 ہزار کے قریب مزید بچوں کی اس پروگرام میں شمولیت کا امکان ہے ۔








