قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی چیئرپرسن سابق سینیٹر رزینہ عالم خان کا اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 08 نومبر (اے پی پی) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی چیئرپرسن سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 26 اور آئین پاکستان کے آرٹیکل کی شق 25-A میں بنیادی تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے، خواندگی ایک ایسی خاصیت اور ہنر ہے جو انسان شعور دیکر معیار زندگی کو بہتر بناتا ہے اور …

اسلام آباد ۔ 08 نومبر (اے پی پی) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی چیئرپرسن سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 26 اور آئین پاکستان کے آرٹیکل کی شق 25-A میں بنیادی تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے، خواندگی ایک ایسی خاصیت اور ہنر ہے جو انسان شعور دیکر معیار زندگی کو بہتر بناتا ہے اور اُسے خود مختاری ،خود اعتمادی اور فیصلہ سازی جیسی صلاحیتوں سے نواز کر ملک کا ایک کار آمد شہری کے طور پر روشناس کرواتا ہے۔ ان خیلات کا اظہار انہوں نے قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے اعلی انتظامیہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے ملک میں تعلیم صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے بے شمار اقدامات اٹھائے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک میں 5 کروڑ 70لاکھ ناخواندہ افراد ملک میں موجود ہیں ۔ اس میں زیادہ تر تعداد خواتین کی جو کہ کسی نہ کسی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر سکیں یا پھر کچھ مرد حضرات کی جو کہ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ اب رسمی طریقے سے مستفید نہیں ہو سکتے ۔دوسری طرف اتنی بڑی تعداد میں ناخواندہ افراد ملک کی سماجی ، معاشی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ کا باعث ہیں ۔ ہم انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے ہمیں قومی سطح پر ایک ایسے لائحہ عمل یا نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے جو کہ غیر رسمی تعلیم کے ذریعے ان ناخواندہ افراد کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکے۔

Leave a Reply