لاس ویگاس۔21مارچ (اے پی پی):باکسنگ کی دنیا کے دو عظیم ترین کھلاڑیوں فلائیڈ مے ویدر اور مینی پیکیائونے رواں سال ستمبر میں ایک بار پھر پیشہ ورانہ مقابلے کے لیے میدان میں اترنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق 47 سالہ فلپائنی باکسر مینی پیکیاؤ اور 48سالہ امریکی فلائیڈ مے ویدر اس سے قبل 2015میں آمنے سامنے آئے تھے، اس مقابلے کو صدی کی سب سے …
لاس ویگاس میں فلائیڈ مے ویدر اور مینی پیکیاؤ کے درمیان دوبارہ مقابلے کا باضابطہ اعلان
لاس ویگاس۔21مارچ (اے پی پی):باکسنگ کی دنیا کے دو عظیم ترین کھلاڑیوں فلائیڈ مے ویدر اور مینی پیکیائونے رواں سال ستمبر میں ایک بار پھر پیشہ ورانہ مقابلے کے لیے میدان میں اترنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق 47 سالہ فلپائنی باکسر مینی پیکیاؤ اور 48سالہ امریکی فلائیڈ مے ویدر اس سے قبل 2015میں آمنے سامنے آئے تھے، اس مقابلے کو صدی کی سب سے بڑی فائٹ قرار دیا گیا تھا اور یہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے زیادہ آمدنی دینے والا مقابلہ ثابت ہوا تھا جس میں امریکی باکسرمے ویدر نے متفقہ فیصلے سے کامیابی حاصل کی تھی۔
مے ویدرنے گزشتہ ہفتے چوتھی مرتبہ ریٹائرمنٹ ختم کرنے کا اعلان کیا، ان کا آخری پیشہ ورانہ مقابلہ 2017 میں تھا جب انہوں نے کونور میک گریگر کو دسویں راؤنڈ میں تکنیکی ناک آؤٹ سے شکست دی تھی۔ فلائیڈ مے ویدراپنے کیریئر میں 50 مقابلے جیت کر ناقابل شکست رہے ہیں جن میں 27 کامیابیاں ناک آؤٹ کی صورت میں تھیں۔
فلپائنی باکسر مینی پیکیاؤ نے 2021 میں سیاست پر توجہ دینے کے لیے باکسنگ کو خیرباد کہا تھا تاہم گزشتہ برس جولائی میں واپسی کرتے ہوئے ڈبلیو بی سی ویلٹر ویٹ چیمپئن ماریو باریوس کے خلاف مقابلہ کیا جو برابر رہا اور ٹائٹل برقرار رہا۔ مینی پیکیاؤ 8 مختلف ویٹ کیٹیگریز میں 12 عالمی ٹائٹل جیت چکے ہیں اور اپنے 73 مقابلوں میں 62 فتوحات حاصل کرچکے ہیں۔
ری میچ کتنے راؤنڈز پر مشتمل ہوگا اور کس وزن کی کیٹیگری میں کھیلا جائے گا اس کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 2015 میں ہونے والا مقابلہ باکسنگ کی تاریخ کا سب سے مہنگا ترین میچ ثابت ہوا تھا جس میں فلائیڈ مے ویدر نے کامیابی حاصل کی تھی۔ فلائیڈ مے ویدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے مینی پیکیاؤ کو پہلے بھی شکست دی تھی اور اس بار بھی نتیجہ وہی ہوگا جبکہ مینی پیکیاؤ نے کہا کہ شائقین طویل عرصے سے اس ری میچ کا انتظار کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مے ویدر اپنے ریکارڈ پر ایک شکست ہمیشہ یاد رکھیں۔









