لاہور۔11 دسمبر(اے پی پی )صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈاکٹروں اور وکلا ء کے درمیا ن چند روز سے جاری لڑائی کا معاملہ بدھ کے روزشدت اختیار کر گیا جب وکلاء کی بڑی تعداد نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر یلغار کر دی ۔ ڈنڈا بردارمشتعل وکلا ء کی بڑی تعداد نے ایمرجنسی کا دروازہ توڑ دیا اور آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی …
لاہور میں ڈاکٹروں اور وکلا ء کے درمیا ن چند روز سے جاری لڑائی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا، ڈنڈا بردار وکلاء کی بڑی تعداد کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ ، مشتعل وکلاء کا وزیر اطلاعات پنجاب ، میڈیا نمائندوں اور ڈاکٹرز پر تشدد، وزیر اعلیٰ پنجاب کا ہنگامہ آرائی کا نوٹس، سی سی پی او لاہور اور صوبائی سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب ، تحقیقات کا حکم دے دیا

مزید خبریں
لاہور۔11 دسمبر(اے پی پی )صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈاکٹروں اور وکلا ء کے درمیا ن چند روز سے جاری لڑائی کا معاملہ بدھ کے روزشدت اختیار کر گیا جب وکلاء کی بڑی تعداد نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر یلغار کر دی ۔ ڈنڈا بردارمشتعل وکلا ء کی بڑی تعداد نے ایمرجنسی کا دروازہ توڑ دیا اور آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی تاہم اس دوران ہسپتال کا عملہ اور ڈاکٹرز نے بڑی مشکل سے جان بچا ئی۔وکلا ء نے پی آئی سی میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا ، پولیس کو وکلاء کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کرنا پڑی۔چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر سلمان حسیب نے بتایا کہ وکلاء نے کارڈیالوجی ہسپتال کے اندر توڑ پھوڑ کی جس کی وجہ سے ڈاکٹرز ، نرسز، پیرا میڈکس اور مریضوں کی جانوں کو خدشات لاحق ہیں انہوں نے بتایا کہ وکلا نے پی آئی سی پر دھاوا بولا اور ہسپتال میں ہنگامہ آرائی کی ‘ وکلاء پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور ایمرجنسی وارڈ میں گھس گئے ‘وکلا نے ہسپتال پر پتھراؤ کیا جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ وکلاء کے توڑ پھوڑ کے باعث ڈاکٹرز نے کام چھوڑ دیا جس کی وجہ سے مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات متاثر ہوئیں اور علاج نہ ہونے پر ایک خاتون گلشن بی بی دم توڑ گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں متعدد مریض تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔وکلاء کی ہلڑ بازی کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ڈرپس لگے کئی مریض وارڈ سے باہر آ گئے۔مغلپورہ کے رہائشی ایک نوجوان نے بتایا کہ ہسپتال میں صورت حال کی وجہ سے میری والدہ گلشن بی بی انتقال کر گئیں۔ نوجوان نے بتایا کہ والدہ نے تکلیف کی شکایت کی لیکن ڈاکٹر نہیں ملا۔ہسپتال میں زیر علاج ایک مریض کے بھائی نے کہا کہ میرے بھائی کے دل کا آپریشن ہو رہا ہے، وکلاء یہ کیا کر رہے ہیں۔ایک اور مریض کے لواحقین نے دہائی دی کہ میں دوائی لینے جا رہا تھا کہ وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔وکلاء کے ہنگامے کے باعث پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ کام چھوڑ کر چلا گیا۔وکلاء کی جانب سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں تشدد کے واقعے کے بعد ڈاکٹرز بھی وکلاء کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور وکلاء کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی جبکہ وکلاء اور ڈاکٹرز کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔وکلاء کے مطابق انہیں ڈاکٹروں نے چیلنج کیا تھا کہ وہ ہسپتال کے باہر آکر دکھائیں، وکلاء کا کہنا تھاکہ ہم پی آئی سی کے باہر آچکے ہیں، چیلنج کرنے والے ڈاکٹرز اب سامنے آئیں۔صورتحال کے پیش نظرپنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے آس پاس موجود مارکیٹ کو بند کروا دیا گیا اور رینجرز کی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان رپورٹ لینے کے لیے موقع پر پہنچے تو مشتعل وکلاء نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس کے علاوہ وکلاء کی جانب سے میڈیا نمائندوں اور ڈاکٹرز پر بھی تشدد کیا گیا۔فیاض چوہان کا کہنا تھا بیچ بچاؤ کرنے آیا تھا لیکن وکلاء کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا تھا کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں، توڑ پھوڑ کرنے والے وکلاء کے خلاف تادیبی کارروائی ہو گی۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج انصاف پسند وکلاء بہت رنجیدہ اور دکھی ہوں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور اور صوبائی سیکریٹری اسپشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے، ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ امراض قلب کے ہسپتال میں ایسا واقعہ ناقابل برداشت ہے، مریضوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنا غیر انسانی اور مجرمانہ اقدام ہے، پنجاب حکومت ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کے لیے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکریٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔کمیٹی وکلا کی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعے کی انکوائری کر کے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلاء کا تعین کرے گی۔








