”لزبن منشور ”میں شمولیت کے بعد پاکستان کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں ، نجم مزاری

آرگینک زراعت اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے نجی ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے عالمی اتحاد ”لزبن منشور ”میں پاکستان کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیتون کے تیل، غذائیت اور عوامی صحت سے متعلق عالمی اتحاد میں پاکستان کی شرکت ملک کے زرعی شعبے کو جدید تحقیق، صحت بخش خوراک اور عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہے،چار براعظموں کے …

اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):آرگینک زراعت اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے نجی ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے عالمی اتحاد ”لزبن منشور ”میں پاکستان کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیتون کے تیل، غذائیت اور عوامی صحت سے متعلق عالمی اتحاد میں پاکستان کی شرکت ملک کے زرعی شعبے کو جدید تحقیق، صحت بخش خوراک اور عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہے،چار براعظموں کے 18 ممالک کی 60 سے زائد تنظیموں کی حمایت یافتہ اس کاوش سے پاکستان کے لیے زیتون سمیت معیاری اور صحت بخش زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

اتوار کو جاری بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ پاکستان کو لزبن منشور میں شمولیت کو محض زیتون کے تیل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس عالمی پلیٹ فارم کوآرگینک زراعت، قدرتی زرعی مصنوعات، سائنسی تحقیق اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیے۔ زیتون کی کاشت میں آرگینک طریقہ پیداوار کو فروغ دے کر ایسی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ عالمی منڈی میں بھی بہتر مقام حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین سمیت دیگر زرعی ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک کے ساتھ آرگینک زراعت کے منصوبوں کیلئے جوائنٹ وینچرزکرنا چاہیے جن میں آرگینک زیتون، آرگینک کھاد، قدرتی زرعی مداخل، پراسیسنگ، پیکیجنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور سرٹیفیکیشن کو شامل کیا جائے۔

چین کے ساتھ مشترکہ تحقیق اور ٹیکنالوجی منتقلی کے ذریعے پاکستان میں آرگینک مصنوعات کی جدید پراسیسنگ اور عالمی معیار کے مطابق تیاری کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔نجم مزاری نے کہا کہ چین کے علاوہ پرتگال، ترکیہ، اٹلی اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی زیتون اور آرگینک زراعت کے شعبے میں مشترکہ تحقیقی پروگرام تشکیل دئیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اور پرتگال کے درمیان زیتون کے شعبے میں تحقیق، ٹیکنالوجی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن کے تعاون پر پہلے ہی بات چیت ہو رہی ہے اس لیے اسے آرگینک زراعت تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

نجم مزاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لزبن منشور میں پاکستان کی شمولیت کو ایک وسیع تر زرعی پالیسی کے تحت استعمال کرتے ہوئے زیتون سمیت دیگر آرگینک فصلوں کے لیے خصوصی تحقیقاتی پروگرام شروع کیے جائیں اور چین و دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری و تحقیق کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔