مادری زبان قوم کی فکری بنیاد، تہذیبی پہچان اور تاریخی تسلسل کی محافظ،اس کا تحفظ دراصل قومی تشخص اور ثقافتی خودمختاری کا تحفظ ہے،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی فکری بنیاد، تہذیبی پہچان اور تاریخی تسلسل کی محافظ ہوتی ہے، زبان نہ صرف اظہارِ خیال کا وسیلہ ہے بلکہ یہ ایک قوم کے اجتماعی شعور، اقدار، روایات اور ثقافتی ورثے کی امین بھی ہے، مادری زبانوں کا تحفظ دراصل قومی تشخص اور ثقافتی خودمختاری کا تحفظ ہے۔ ہفتے کو …

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی فکری بنیاد، تہذیبی پہچان اور تاریخی تسلسل کی محافظ ہوتی ہے، زبان نہ صرف اظہارِ خیال کا وسیلہ ہے بلکہ یہ ایک قوم کے اجتماعی شعور، اقدار، روایات اور ثقافتی ورثے کی امین بھی ہے، مادری زبانوں کا تحفظ دراصل قومی تشخص اور ثقافتی خودمختاری کا تحفظ ہے۔

ہفتے کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ماہرینِ تعلیم اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے سے ان کی ذہنی نشوونما، فہم و ادراک اور تخلیقی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، مادری زبان میں سیکھنے والا بچہ نہ صرف بہتر تعلیمی کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ وہ اپنی ثقافت اور معاشرتی اقدار سے بھی مضبوطی کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان لسانی اور ثقافتی تنوع کا حسین امتزاج ہے، ملک کے مختلف حصوں میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوی، ہندکو، شینا، بلتی، کھوار، کشمیری اور دیگر کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، یہ تمام زبانیں ہماری قومی شناخت کا قیمتی اثاثہ اور ہماری تاریخ، لوک روایات، داستانوں، صوفیانہ کلام اور ادبی سرمائے کی ترجمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو بطور قومی اور رابطے کی زبان وفاقی اکائیوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں یکساں احترام اور توجہ کی مستحق ہیں۔

سیدال خان ناصر نے کہا کہ ہماری مادری زبانوں نے بے شمار نامور شعرا، ادبا، مفکرین اور دانشور پیدا کیے جنہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا، ان زبانوں میں موجود ادبی اور فکری سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مادری زبانوں کو ڈیجیٹل اور تعلیمی شعبوں میں فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، نصاب سازی، تحقیق، اشاعت اور ابلاغ کے ذرائع میں علاقائی زبانوں کی شمولیت کو یقینی بنا کر ہی ہم اپنے لسانی ورثے کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمان مادری زبانوں کے تحفظ، ترویج اور فروغ کے لیے قانون سازی اور عملی اقدامات کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی تاکہ لسانی تنوع کو قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور باہمی احترام کی بنیاد بنایا جا سکے۔

انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنی مادری زبانوں پر فخر کریں، گھروں اور تعلیمی اداروں میں ان کے استعمال کو فروغ دیں اور نئی نسل کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑے رکھیں کیونکہ مضبوط زبانیں ہی مضبوط قوموں کی بنیاد ہوتی ہیں۔