اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتیں سٹیل مل ، پی آئی اے ،ریلوے ،پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سمیت دیگر ریاستی اداروں کو ایمپلائمنٹ بیورو سمجھ کر سیاسی بھرتیاں کر تی رہی ہیں ، جس کی وجہ سے اداروں کی فعالیت اور کارکردگی بہتر نہ ہوسکی ، …
ماضی کی حکومتوں نے سٹیل مل ، پی آئی اے ،ریلوے ،پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سمیت دیگر ریاستی اداروں کو ایمپلائمنٹ بیورو سمجھا، وزیر اطلاعات شبلی فراز اور مشیر ڈاکٹر عشرت حسین کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتیں سٹیل مل ، پی آئی اے ،ریلوے ،پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سمیت دیگر ریاستی اداروں کو ایمپلائمنٹ بیورو سمجھ کر سیاسی بھرتیاں کر تی رہی ہیں ، جس کی وجہ سے اداروں کی فعالیت اور کارکردگی بہتر نہ ہوسکی ، پہلی دفعہ شفاف انداز سے 45 اداروں کے سربراہان کی مروجہ قوائد و ضوابط کے مطابق تقرریاں کی گئی ہیں ، ریلوے میں ریگولیٹر کو الگ کرنے کے ساتھ ساتھ 5 کمپنیاں بنانے ، سٹیل مل پرائیویٹ سیکٹر کو لیز پر فراہم کرنے اور پی آئی اے کے نصف ملازمین کو والنٹیئر ہینڈ شیک دیکر گھروں میں بھجوایا جائے گا ، ایف بی آر میں ٹیکس پیئر کے امور اور ریفنڈ کے عمل کے بعد انکم ٹیکس امور کو بھی آٹومیشن پر لانے کا منصوبہ ہے ، پہلی مرتبہ اعلی اختیاراتی بورڈ کی جانب گریڈ21، 22 کی ترقیوں کے عمل کو چیلنج نہیں کیا گیا ، نئے کاروربار شروع کرنے کے لئے وفاقی ،صوبائی اور مقامی اداروں این او سی ،لائسنس اور سرٹیفکیٹس کے پیچیدہ عمل کو آسان بنایا جارہا ہے تا کہ کاروبار شروع کرنے میں آسانیوں سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکیں ۔ وہ جمعہ کی شام پی آئی ڈی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت بنی ہے اس وقت سے اداروں کے ڈھانچے کو بہتر کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ، ادارے جس مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں اگر وہ اس مقصد پر نہیں چلیں گے تو ان کی افادیت کم ہوتے ہوتے ختم ہوجاتی ہے ، وزیراعظم کی ہدایات پر ڈاکٹر عشرت حسین ادارہ جاتی اصلاحات کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں ،اداروں کو فعال بنانے کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں ،ادارے اس وقت بہتر انداز سے کام کرسکتے ہیں جب ان کی قیادت اہل اور ماہر لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سینٹر شبلی فراز نے کہاکہ کورونا وائرس ایک عالمی وبا ہے جس سے بہت جانی نقصانات ہوئے اور ممالک کی معیشت متاثر ہوئی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں کورونا وائرس کے اتنے شدید نقصانات نہیں ہوئے اس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی ، ایس او پیز پر عمل درآمد تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ،ریلوے ، سٹیل مل سمیت دیگر ریاستی اداروں میں ماضی کی حکومتوں نے ایمپلائمنٹ بیورو سمجھ کر سیاسی بھرتیاں کیں جس کی وجہ سے ادارے فعال نہیں ہوسکے اور ہر آنے والے دن ان کی صلاحیت منفی ہوتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی این سی اے ، ریڈیو پاکستان ،پی ٹی وی ، لوک ورثہ ، ادبی ڈویژن کے اداروں کو دیئے جانے والے فنڈز کا 80 فیصد تنخواہوں میں ادا کرنا پڑجاتا ہے جن مقاصد کے لئے فنڈز دیئے جاتے ہیں وہ بھی حاصل نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں معاشی سرگرمیاں دیکھ کر رشک آتا ہے ، حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں دی جانے والی مراعات اور ریلیف کی بدولت آج فیصل آباد میں لیبر کم پڑ گئی ہے اور کام بہت ذیادہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ذمہ داری کا ثبوت دیں ،کورونا وائرس ذہنی اختراع نہیں بلکہ ایک عالمی حقیقت ہے ، جلسے جلوسوں میں لوگ دوسرے علاقوں سے آتے اور واپس جاتے ہیں تو ایسے میں کورونا وائرس بڑھنے کے شدید خطرات ہیں ، عدالت عالیہ کے فیصلوں ،حکومتی ایس او پیز کے باوجود اگر اپوزیشن جماعتیں جلسے جلوس کرتی ہیں تو کورونا وائرس کے پھیلائو کا موجب بننے پر جلسے کرانے والی پارٹیوں ، منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں ردوبدل وزیراعظم کا استحقا ق ہے ، جب وزیراعظم سمجھیں گے کہ ان کی کابینہ کے وزرا بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہے یا ان کے محکمے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو اس وقت وزیراعظم ردوبدل کر دیں گے ۔وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے کہ سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرریاں شفاف انداز سے کی جائیں ، وفاقی کابینہ کو ہم نے ایک سمری بھجوائی جس میں سرکاری اداروں میں سربراہان کی تقرری کا طریقہ کار ،اہلیت اور دیگر امور طے کیے تھے ،وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع کیا گیا اور اب تک 45اداروں کے سربراہان کی تقرریاں کرنے کے ساتھ ساتھ گریڈ 21،22 کی ترقیوں کا عمل شفاف انداز سے مکمل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں شفاف طریقہ متعارف کرایا گیا ، ٹیکس ادا کرنے اور وصول کرنے والے جب آمنے سامنے آتے ہیں تو اس میں پیسے خزانے میں جانے کی بجائے کہیں اور چلے جاتے ہیں جس پر ہم نے اس شعبے کو آٹو میشن پر لے کرجارہے ہیں ، بیرون ملک سے ایک پاکستانی کی خدمات حاصل کیں جو اس وقت بطور چیف انفارمیشن آفیسر کام کررہے ہیں ، کچھ وقت ایکسپورٹرز کے لئے ریفنڈ ایک بڑا مسئلہ تھا ، ریفنڈ کا چیک بننا مشکل مرحلہ تھا اور جب بن جاتا تو ایف بی آر والے کچھ دو ، چیک لے لو کی پالیسی پرتھے اس کو ختم کرنے کے لئے فاسٹ ٹریک نظام متعارف کرایا گیا ،ریفنڈ کلیم داخل ہونے کےبعد منظوری ،چیک کی بجائے درخواست گذار کے اکائونٹ میں ریفنڈ کی رقم کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے اس سے ایکسپورٹر بھی خوش ہے کیونکہ اسے اس وقت کے لئے اپنا کام آگے بڑھانے کے لئے قرض حاصل کرنا پڑتے تھے ، 2.7ملین انکم ٹیکس فائلر میں سے 17 لاکھ صفر آمدن لکھتے ہیں ، ایک مربوط ڈیٹا بیس سے ان کی معلومات بھی حاصل کرنے کے لئے ڈیٹا ایکسرے نظام کے ذریعے کام کیا جارہا ہے ۔ مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا کہ 1985 سے قبل پاکستان ریلوے بروقت آمدورفت اور منافع بخش ادارے کے طور پر مشہور تھا لیکن بعد میں منافع کا گراف گرنا شروع ہوگیا اور آج ریلوے کا خسارہ سب کے سامنے ہے ، ملک کے مجموعی کارگو میں سے صرف 4 فیصد ریلوے مال گاڑیوں جبکہ 96فیصد کارگو ٹرکوں کے ذریعے منتقل ہورہا ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریلوے کی ری سٹرکچرنگ کی جائے اس کے لئے ریلوے میں 5 کمپنیاں بنائی جارہی ہیں جن میں ریگولیٹر الگ ہوگا جو سیفٹی اور حادثات کو دیکھے گا ، حادثات کی صورت میں جرمانوں کا نظام بھی متعارف کرایا جارہا ہے ۔ ایم ایل ون کے لئے الگ کمپنی بنائی جارہی ہے جو صرف ایم ایل ون کو ہی دیکھے گی جبکہ ٹریک اور انفراسٹرکچر حکومت کے پاس ہوگا ، فریٹ اور پسنجر ٹرین کی کمپنی بھی الگ الگ ہوگی ، پرائیویٹ سیکٹر ریلوے ٹریک اور سٹیشن استعمال کریں گے تو وہ بھی اس کے چارجز ادا کرنے کے پابند ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹیل مل 2015میں بند ہوئی لیکن اسکے ملازمین کی تنخواہیں حکومت اب بھی ادا کر رہی ہے ،اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان سٹیل مل کے ملازمین کو دو ، اڑھائی سا ل کی تنخواہیں اکٹھی ادا کرنے کے بعد پاکستان سٹیل مل کی 1200ایکٹر اراضی الگ کی جائے اور ساتھ 19ہزار ایکٹر اراضی حکومت کو منتقل کر نے کے بعد پرائیویٹ سیکٹر کو لیز پر 1200ایکٹر اراضی پر مشتمل سٹیل مل دی جائے ، سٹیل مل کی پیداوار کی استعداد کار کو 3ملین میٹرک ٹن تک بڑھایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے 10 سالوں سے خسارے میں ہے ، اس وقت اس کا خسارہ 450ارب روپے ہے ، کورونا وائرس کے باوجود پی آئی اے نے منافع کمایا ہے لیکن قرض اتنے ادا کرنے ہیں کہ وہ منافع نظر نہیں آتا ، پی آئی اے کی فنانشنل ری سٹرکچرنگ پلان ترتیب دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے 14000 ملازمین ہیں جن کی تعداد کو 7000 پر لایا جائے گا جبکہ آئوٹ سورس کرنے والے شعبوں میں کام کرنے والے 3500 ملازمین پی آئی اے کے پے رول سے ختم ہوجائیں گے ،اسوقت فی جہاز پی آئی اے کے 500 ملازمین ہیں جن کی تعداد نصف کر کے 250 پر لائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازوں کا رخ منافع بخش روٹس کی طرف بڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ نیا کاروبار شروع کرنے کے لئے اگر وفاقی ، صوبائی ، ضلعی اور مقامی لائسنسز اور این او سی کا حساب لگائیں تو ان کے لئے 100 سے زائد دستاویزات درکار ہوتی ہیں ان کو کم کر کے نئے کاروبار کو آسان بنانے کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو اپنی سفارشات جلد پیش کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تعمیرات کے شعبے کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبے میں آسانیاں پیدا ہونے سے 32صنعتیں براہ راست استفادہ حاصل کر رہی ہیں جن سے ایک ٹریلین کا فائدہ ہوا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب سے اس حکومت کی کابینہ کا حصہ ہوں حکومتی خرچے پر کوئی علاج نہیں کرایا اور سٹیٹ بینک سے پنشن نہیں لے رہا، صرف ورلڈ بینک سے تنخواہ لے رہا ہوں ۔








