ماہرین اور صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز نے پاکستان میں صنعتی شعبے کو صاف اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقل کرنے کےلئے ایسا مؤثر مالیاتی اور پالیسی نظام تشکیل دینے پر زور دیا ہے جو بالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کےلئے سرمایہ تک رسائی آسان بنائے، پاکستان کو توانائی کی منتقلی کے لئے صرف مزید سرمایہ نہیں بلکہ ایسا مربوط نظام درکار ہے جو صاف توانائی کے …
ماہرین کا پاکستان میں صنعتی شعبے کو صاف اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقل کرنے کےلئے مؤثر مالیاتی اور پالیسی نظام تشکیل دینے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):ماہرین اور صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز نے پاکستان میں صنعتی شعبے کو صاف اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقل کرنے کےلئے ایسا مؤثر مالیاتی اور پالیسی نظام تشکیل دینے پر زور دیا ہے جو بالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کےلئے سرمایہ تک رسائی آسان بنائے، پاکستان کو توانائی کی منتقلی کے لئے صرف مزید سرمایہ نہیں بلکہ ایسا مربوط نظام درکار ہے جو صاف توانائی کے منصوبوں کو قابلِ عمل، بینکوں کے لئے قابلِ اعتماد اور صنعتوں کے لئے قابلِ رسائی بنا سکے۔
یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے پاکستان انڈسٹریل ڈیکاربونائزیشن پروگرام اور نیٹ ورک فار کلین انرجی ٹرانزیشن کے تحت انٹرنیشنل نیٹ ورک آف انرجی ٹرانزیشن تھنک ٹینکس کے تعاون سے منعقدہ مشاورتی نشست میں کہی گئی۔ایس ڈی پی آئی کے پاکستان انڈسٹریل ڈیکاربونائزیشن پروگرام کی سربراہ صالحہ قریشی نے کہا کہ صنعتی شعبے کو صاف ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنے کےلئے مناسب مالیاتی ذرائع کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے قومی موسمیاتی اہداف، یعنی این ڈی سی 3.0کے تحت تقریباً 565 ارب ڈالر کی مجموعی مالی ضرورت کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی حقیقی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے شعبہ وار مالیاتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے کیونکہ صنعتوں کے مالی حالات، توانائی کی ضروریات اور سرمایہ کاری کی صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔صالحہ قریشی نے مزید کہا کہ توانائی کی قیمتوں، پالیسیوں اور مجموعی معاشی حالات میں غیر یقینی صورتحال صنعتی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہے۔اس لئے مستقل اور واضح پالیسی سمت کے ساتھ ایسے مالیاتی طریقہ کار کی ضرورت ہے جو پاکستان کے حالات سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے سولرائز سروس اور ریسکو ماڈلز کو بھی ایسے طریقوں کے طور پر اجاگر کیا جن کے ذریعے صنعتوں پر ابتدائی سرمایہ کاری کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
اگورا انڈسٹری کی پراجیکٹ لیڈر کاجول نے کہا کہ بہت سی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے پاس نہ تو اتنی مالی استعداد ہے اور نہ ہی فنی صلاحیت کہ وہ خود بڑے صاف توانائی منصوبے تیار کر سکیں۔انہوں نے صنعتی کلسٹرز میں کام کرنے والی چھوٹی صنعتوں کی توانائی کی طلب کو یکجا کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کئی چھوٹے کاروبار اپنی توانائی کی ضروریات کو ایک مشترکہ منصوبے میں شامل کریں تو بڑے اور زیادہ قابلِ سرمایہ کاری منصوبے تشکیل دیئے جا سکتے ہیں جس سے لین دین کے اخراجات کم ہوں گے۔کلائمیٹ فنانس پاکستان کے بانی مکائیل ملک نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں نجی شعبے کے لئے قرضوں تک محدود رسائی، مالیاتی اداروں میں خطرہ مول لینے سے گریز اور صاف ٹیکنالوجی سے وابستہ کاروباروں کےلئے سرمایہ حاصل کرنے میں مشکلات کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ صرف سرمایہ فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ فنی صلاحیت بھی مضبوط بنانا ہوگی تاکہ اچھے خیالات کو قابلِ توسیع اور منافع بخش کاروبار میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ تک آسان رسائی اور حکومت و مالیاتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اس عمل کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔رینیوایبلز فرسٹ کے ایسوسی ایٹ توانائی و موسمیاتی محمد شیراز عامر نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں اکثر محدود ورکنگ کیپیٹل، ناکافی ضمانت اور روایتی بینکاری قرضوں تک محدود رسائی کے باعث صاف توانائی کے منصوبوں میں حصہ نہیں لے پاتیں۔ انہوں نے کریڈٹ گارنٹی، رعایتی مالیات، اثاثوں کی مالیاتی تشکیل، مشترکہ قرضہ کاری اور چھوٹے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو یکجا کرنے کو اہم مالیاتی راستے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی اور بیٹری ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو ایک مربوط مالیاتی ڈھانچے میں شامل کر کے صنعتوں کے لئے ابتدائی سرمایہ کاری کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔آلٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز کے انرجی ٹرانزیشن آفیسر مشہود عرفی نے کہا کہ صنعتی موسمیاتی مالیات کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ مالیاتی ذرائع کو زیادہ مؤثر انداز میں صنعتوں، بالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں تک پہنچایا جائے۔
مشہود عرفی نے صنعتوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان معلومات اور اعتماد کے فقدان کی بھی نشاندہی کی۔شرکا ءنے کہا کہ صنعتی توانائی منتقلی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ترقیاتی مالیاتی اداروں، حکومتی اداروں، چیمبرز آف کامرس اور صنعتی انجمنوں کے درمیان بہتر رابطہ ضروری ہے تاکہ ایک مشترکہ اور مربوط مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔اختتامی کلمات میں ایس ڈی پی آئی کی انرجی یونٹ سے وابستہ محقق عرفہ اعجاز نے کہا کہ نشست کے دوران گفتگو انفرادی ایس ایم ایز کو درپیش مشکلات سے آگے بڑھ کر ایسے اصلاحاتی اقدامات تک پہنچی جو بڑے پیمانے پر صنعتی شعبے کی مدد کر سکتے ہیں۔ نشست میں اس امر پر اتفاق سامنے آیا کہ پاکستان کو لازماً کوئی نیا مالیاتی نظام شروع کرنے کی ضرورت نہیں؛ اصل ضرورت موجودہ مالیاتی ذرائع اور اداروں کو بہتر انداز میں مربوط کرنے کی ہے۔








