اٹھارہ ماہ کی محنت سے روپیہ مستحکم ہوا، فروری میں برآمدات میں 13.6فیصد اضافہ ہوا، سی پیک پاکستان کو چین اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی دے گا وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د کا سی پیک اقتصادی زون کے حوالے سے سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 10 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ 18 ماہ کی محنت سے روپیہ مستحکم ہوا، فروری میں سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں 13.6فیصد اضافہ ہواہے، سی پیک پاکستان کو چین اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی دے گا، اس سے پاکستان کو آنے والے سالوں میں مدد ملے گی، حکومت نے معاشی استحکام کیلئے بروقت اقدامات …

اسلام آباد ۔ 10 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ 18 ماہ کی محنت سے روپیہ مستحکم ہوا، فروری میں سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں 13.6فیصد اضافہ ہواہے، سی پیک پاکستان کو چین اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی دے گا، اس سے پاکستان کو آنے والے سالوں میں مدد ملے گی، حکومت نے معاشی استحکام کیلئے بروقت اقدامات کئے ہیں، دوسرا مرحلہ فائنلائز کردیا ہے، ہم صنعتی شعبے میں تعاون ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور جوائنٹ ونچرز کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام سی پیک اقتصادی زون کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشیر تجارت نے کہاکہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں زرعی تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس میں کمرشل تعاون بھی شامل ہے، زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان میں توانائی کا بحران تھا،چین کی مدد سے اس پر قابو پایا،اب وقت صنعت، زراعت میں تعاون بڑھانے کا ہے، ریلوے میں بھی چین سے تعاون کے خواہاں ہیں۔ سی پیک بی آر آئی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس عرصے میں دیگر ممالک کی برآمدات میں کمی ہوئی مگر پاکستان میں اضافہ ہوا۔معیشت میں استحکام آیا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں،اس سے جاری خسارے میں مزید کمی آئے گی، ایس ای سیز قائم کی جارہی ہیں ،سرمایہ کاروں ہر پرکشش مراعات دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری آرہی ہے، ٹیکسٹائل شعبے کا مسئلہ منڈی نہیں بلکہ استعداد ہے،ہمیں مارکیٹ تک رسائی مل گئی ہے،یورپ سے جی ایس پلس کو توسیع ملی ہے، اس سے ترقی کے خاطر خواہ مواقع ملے ہیں،یہ سنہری موقع ہے اس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت ویژنری ہے،اس ڈائریکشن اور وژن سے چینی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے،اس استحکام کے مثبت نتائج رونما ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری بورڈ سے مل کر چین پاکستان میں ایس ای سیز میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ چین کے صنعتکار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، ہم ایس ای سیز میں دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کو بھی خیر مقدم کرتے ہیں، گزشتہ چھ ماہ میں ٹائر، بس، ٹرک سازی اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں متعدد مشترکہ منصوبے شروع ہوئے ہیں، چین پر اعتماد ہے کہ پاکستانی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی۔