گیلیون، سوئٹزرلینڈ۔28اکتوبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے چین، سپین، مراکش اور یونیورسل رائٹس گروپ کے ساتھ مل کر گلیون میں منعقد ہونے والے 11ویں ’’گلیون ہیومن رائٹس ڈائیلاگ‘‘(Glion XI) کی مشترکہ میزبانی کی۔ یہ اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر گلیون میں منعقد ہوا۔ اس سال کا موضوع ’’بیجنگ کے 30 سال: خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے فروغ اور صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام …
متحدہ عرب امارات کی سوئٹزرلینڈ میں ’’گلیون ہیومن رائٹس ڈائیلاگ‘‘ کی مشترکہ میزبانی، خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات پر زور

مزید خبریں
گیلیون، سوئٹزرلینڈ۔28اکتوبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے چین، سپین، مراکش اور یونیورسل رائٹس گروپ کے ساتھ مل کر گلیون میں منعقد ہونے والے 11ویں ’’گلیون ہیومن رائٹس ڈائیلاگ‘‘(Glion XI) کی مشترکہ میزبانی کی۔ یہ اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر گلیون میں منعقد ہوا۔
اس سال کا موضوع ’’بیجنگ کے 30 سال: خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے فروغ اور صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کو متحرک کرنا‘‘ تھا جو 1995 کی ’’بیجنگ ڈیکلیریشن اینڈ پلیٹ فارم فار ایکشن‘‘ کی 30ویں سالگرہ کی یاد میں منایا گیا۔امارات نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ وہ کثیرالجہتی تعاون کے فروغ بالخصوص خواتین کے بااختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عالمی انسانی حقوق کے نظام میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا ۔
جنیوا میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لئے متحدہ عرب امارات کے مستقل نمائندےجمال المشرح نے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے خواتین کے بااختیار بنانے میں امارات کی کامیابیوں اور عالمی سطح پر صنفی مساوات کے فروغ میں اس کے قائدانہ کردار کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر توجہ دراصل قوموں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے حکومت اور عوامی شعبے میں اماراتی خواتین کی نمائندگی کو سراہتے ہوئے بیجنگ اعلامیے کے بعد دنیا بھر میں حاصل ہونے والی پیشرفت کا اعتراف کیا۔
متحدہ عرب امارات نے ڈائیلاگ کے مختلف سیشنز میں فعال شرکت کی۔ یو اے ای کی نائب مستقل نمائندہ شہد مطر نے ایک پینل مباحثے میں حصہ لیا جس کا موضوع خواتین کے حقوق کے فروغ اور صنفی مساوات میں تیزی لانے کے لئے اقوام متحدہ کے نظام کو مؤثر طور پر متحرک کرنا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے فروغ کے لئے عملی شراکت پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ خواتین اور لڑکیوں کو حقیقی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اسی دوران جنیوا میں متحدہ عرب امارات کے مستقل مشن کے مشیر خلیفہ المزروعی نے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے نمائندوں کے ساتھ مباحثے کی قیادت کی جس میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق سے متعلق سفارشات کے قومی سطح پر نفاذ کی بہترین حکمت عملیوں پر گفتگو کی گئی۔
ان کی رہنمائی میں اجلاس نے واضح اور قابلِ عمل نتائج پر توجہ مرکوز کی۔اس ڈائیلاگ میں انسانی حقوق کے مختلف اداروں کے نمائندے شریک ہوئے، جن میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، یو این ویمن، اقوام متحدہ کی آبادیاتی فنڈ، اور گلوبل الائنس آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز شامل تھے جس سے اس تقریب کی شمولیتی اور مشترکہ نوعیت کو مزید تقویت ملی۔
’’گلیون ہیومن رائٹس ڈائیلاگ‘‘ اب جنیوا کی سفارتی برادری میں ایک اہم فورم بن چکا ہے جو انسانی حقوق کے فوری چیلنجز اور بین الاقوامی تعاون پر آزادانہ اور شمولیتی بحث کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔یہ اجلاس جو ’’چیٹم ہاؤس رول‘‘ کے تحت غیر رسمی مگر اعلیٰ سطحی مکالمے کے فروغ کے لئے جانا جاتا ہے، رکن ممالک، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، انسانی حقوق کے ماہرین، سول سوسائٹی، اور دیگر متعلقہ فریقین کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے تاکہ عملی اور پائیدار نتائج حاصل کئے جا سکیں۔








