وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک تفصیلی اور رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محض دعوؤں یا اعتراضات کی بنیاد پر جائیداد کی منتقلی کو غیر قانونی یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ ایسے دعوے ٹھوس، قابلِ قبول اور قانونی تقاضوں پر پورا اترنے والے شواہد سے ثابت نہ کیے جائیں
محض الزامات پر جائیداد کی منتقلی کالعدم قرار نہیں دی جا سکتی، دعویٰ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد لازم ،وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 12 اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک تفصیلی اور رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محض دعوؤں یا اعتراضات کی بنیاد پر جائیداد کی منتقلی کو غیر قانونی یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ ایسے دعوے ٹھوس، قابلِ قبول اور قانونی تقاضوں پر پورا اترنے والے شواہد سے ثابت نہ کیے جائیں۔یہ فیصلہ چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے صادر کیا، جس میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ عدالت نے سول اپیل نمبر 112/2023 کی سماعت مکمل ہونے پر تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔زیرِ سماعت اپیل میاں طاہر رضا کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ کے 14 مئی 2019 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جہاں درخواست گزار کی آئینی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ریکارڈ کے مطابق تنازعہ کی بنیاد 1985 میں دائر کردہ ایک دعویٰ پر تھی، جس میں مدعی نے خود کو متنازعہ جائیداد کا مالک ظاہر کرتے ہوئے پاور آف اٹارنی اور اس کے تحت ہونے والی منتقلی کو چیلنج کیا۔
مؤقف اختیار کیا گیا کہ مبینہ وکیل کے ذریعے جائیداد کی فروخت غیر قانونی ہے۔عدالتِ عظمیٰ دستیاب ریکارڈ، شواہد اور مقدمے کے جملہ پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی ایسی قانونی، آئینی یا عدالتی سقم موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جا سکے۔مزید برآں عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ اپنے دعوے کو مؤثر، قابلِ اعتبار اور قانوناً قابلِ قبول شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث اپیل ناقابلِ قبول قرار دے کر مسترد کی جاتی ہے۔فیصلے میں یہ امر بھی واضح کیا گیا کہ مذکورہ اپیل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 185(3) کے تحت دائر کی گئی تھی، جو ستائیسویں آئینی ترمیم 2025 سے قبل کی قانونی پوزیشن کے تحت قابلِ سماعت تھی۔ چنانچہ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔








