محمد زبیر اپنے قائدین کو ریلیف دلوانے کیلئے پہلے بھی کوشش کر چکے،یہ جو مرضی کر لیں انہیں این ار او نہیں ملے گا،عثمان ڈار کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجواناں عثمان ڈار نے کہا ہے کہ ن لیگی رہنما محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کو سوٹ کرتے ہیں، وہ پہلے بھی اپنے قائدین کو ریلیف دلوانے کیلئے کوشش کر چکے ہیں، یہ جو مرضی کر لیں وزیراعظم عمران خان کا دو ٹوک موقف ہے کہ وہ بدعنوان قائدین کو این آر او نہیں دیں گے، اپوزیشن …

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجواناں عثمان ڈار نے کہا ہے کہ ن لیگی رہنما محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کو سوٹ کرتے ہیں، وہ پہلے بھی اپنے قائدین کو ریلیف دلوانے کیلئے کوشش کر چکے ہیں، یہ جو مرضی کر لیں وزیراعظم عمران خان کا دو ٹوک موقف ہے کہ وہ بدعنوان قائدین کو این آر او نہیں دیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت مخالف تحریک کا سربراہ مقرر کیا ہے، وہ اپنے حلقے سے انتخابات ہارے ہوئے ہیں ایسی تحریک کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ جب بھی اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو این آر او لیکر بیرون ممالک بھاگ جاتے تھے، اس بار انہیں ریلیف نہیں مل رہا جس کی وجہ سے ان کے چہرے پر مایوسی اور گھبراہٹ دکھائی دے رہی ہے اور وہ قومی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں۔ عثمان ڈار نے کہا کہ نواز شریف نے پارٹی ترجمان کی موجودگی میں محمد زبیر کو اپنا ترجمان کیوں مقرر کیا ہے؟ محمد زبیر نواز شریف اور مریم نواز کو سوٹ کرتے ہیں، وہ پہلے بھی ان دونوں کو ریلیف دلوانے کیلئے کوشش کر چکے ہیں، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ زبیر پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن انہیں کسی قیمت پر این آر او نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سیاست اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو اپنا لیڈر مانتے ہوئے انہیں حکومت مخالف تحریک کا سربراہ مقرر کیا ہے، اپوزیشن کے اس فیصلے سے ن لیگ اور پی پی کے ورکرز کو مایوسی ہوئی ہے کہ انہیں مولانا کی قیادت میں آگے بڑھنا ہے، جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ اپنے حلقے سے الیکشن ہارے ہوئے ہیں اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا کہ اس تحریک کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ نواز شریف کے قومی اداروں کے خلاف بیانیے سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے البتہ بھارت خوش ہوا ہے، انہیں اداروں کے خلاف ایسی نامناسب باتیں نہیں کرنی چاہییں۔

مزید خبریں