محکمہ لائیو سٹاک کی مویشیوں کی بہتر افزائش کے لیے سبز چارے کے استعمال کی ہدایت

محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ نے موسمِ گرما میں مویشیوں کی صحت، دودھ کی پیداوار اور بہتر افزائش کے لیے سبز چارے کے استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مویشی پال حضرات کو جدید اور متوازن خوراک اپنانے کی ہدایت کی ہے

فیصل آباد۔ 07 جولائی (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ نے موسمِ گرما میں مویشیوں کی صحت، دودھ کی پیداوار اور بہتر افزائش کے لیے سبز چارے کے استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مویشی پال حضرات کو جدید اور متوازن خوراک اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ڈائریکٹر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈاکٹر حیدر علی خان فیصل آباد نے بتایا کہ سبز چارہ پانی، وٹامنز، معدنیات اور دیگر ضروری غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے جو جانوروں کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سبز چارے میں موجود پانی کی مقدار تقریباً 70 سے 90 فیصد تک ہوتی ہے جس سے گرمی کے موسم میں جانوروں میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سبز چارہ جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، گرمی کے منفی اثرات کم کرنے اور جانوروں کو ہیٹ سٹریس سے بچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متوازن سبز چارہ کھلانے سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ، دودھ کے معیار میں بہتری اور جانوروں کی افزائشی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ سبز چارہ ہاضمہ بہتر بناتا ہے جس سے جانور خوراک کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے اور صحت مند رہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سبز چارہ وٹامن اے، وٹامن ای اور دیگر ضروری غذائی اجزا کا اہم ذریعہ ہے جو جانوروں کی قوتِ مدافعت مضبوط بنانے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے مویشی پال حضرات کو ہدایت کی کہ وہ جانوروں کو ہمیشہ تازہ اور صاف سبز چارہ فراہم کریں، مناسب مقدار میں خشک چارہ بھی خوراک میں شامل رکھیں، خراب، پھپھوندی زدہ یا سڑا ہوا چارہ ہرگز استعمال نہ کریں، جانوروں کو ہر وقت صاف اور ٹھنڈا پانی مہیا کریں اور گرمی کے موسم میں صبح اور شام کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات میں چارہ کھلائیں تاکہ جانور گرمی کے دباؤ سے محفوظ رہیں۔ڈاکٹر حیدر علی خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مویشیوں میں معیاری سبز چارے، صاف پانی اور متوازن خوراک کے فروغ کے ذریعے نہ صرف دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مویشی پال حضرات کی آمدنی میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے تمام فارمرز سے اپیل کی ہے کہ وہ جدید مویشی پال طریقوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے جانوروں کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو ترجیح دیں۔