"وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی فریق کو مختلف فورمز کے ذریعے حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔”
مدت پوری ہونے کے بعد دائر نظرثانی درخواست کی آڑ میں حتمی عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مدت مقررہ گزرنے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی فریق کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد مختلف فورمز کے ذریعے حتمی فیصلے کو غیر موثر بنانے کی کوشش کرے۔
چیف جسٹس آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان مقدمے میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور قرار دیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی ہدایات کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے فوائد کسی ریٹائرڈ ملازم کا مستحکم، قابل نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر روکا نہیں جا سکتا۔ پنشن کی ادائیگی میں بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ نہ صرف ملازم کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں سے انحراف اور توہین عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاہم مختلف قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی 1992ء سے 2017ء تک تقریباً 25 سالہ ملازمت پنشن کے لیے قابل شمار ہے اور اس کی سابقہ سروس بھی پنشن کے حساب میں شامل کی جائے گی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ مدت سے باہر دائر نظرثانی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس کے خلاف آئینی درخواست دائر کر کے اصل فیصلے کی حیثیت ختم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام ضروری ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور واضح کیا کہ لیبر کورٹ کے 18 اپریل 2008ء کے فیصلے میں دی گئی ہدایات مکمل طور پر نافذ العمل ہیں اور انہیں دوبارہ چیلنج یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔







