مری۔23جنوری (اے پی پی):ملکہ کوہسار مری میں شدید برفباری اور غیر معمولی برفانی طوفان کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور امدادی اداروں کی جانب سے ہیوی مشینری کے زریعے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی اور ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپراخود فیلڈ میں موجود ہیں،پہلی ترجیح اندرون علاقوں کی شاہراہوں سے برف ہٹانا اور مری کے …
مری میں شدید برفانی طوفان،5 ہزار گاڑیوں کا انخلاء جاری،سیاحوں کو مری کا سفر ترک کر نے کی ہدایت

مزید خبریں
مری۔23جنوری (اے پی پی):ملکہ کوہسار مری میں شدید برفباری اور غیر معمولی برفانی طوفان کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور امدادی اداروں کی جانب سے ہیوی مشینری کے زریعے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی اور ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپراخود فیلڈ میں موجود ہیں،پہلی ترجیح اندرون علاقوں کی شاہراہوں سے برف ہٹانا اور مری کے اندر موجود 5ہزار گاڑیوں کو بحفاظت نکالنا ہے۔ڈی سی مری آغا ظہیر عباس شیرازی نے بتایا کہ مری میں ایک فٹ تک برف پڑھ چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔سیاحوں اور شہریوں کی سہولت کے لئے برف ہٹانے والی کرینیں اور لوڈرز مسلسل مرکزی شاہراہوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ راستے جلد کلیئر کیے جا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کی تمام تر توانائیاں اور وسائل سیاحوں کی سہولت کے لیے وقف ہیں اور مری میں موجود افراد کو مسلسل معلومات اور مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سیاحوں سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے آپ کی خدمت کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے کہا کہ ایک فٹ تک برف پڑنے اور برفانی طوفان کی وجہ سے حد نگاہ صدر ہو گئی ہے اس لئے مری کے لئے مزیرلد گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی طوفانی صورتحال کے پیشِ نظر سیاحوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے سیاحوں کو پیغام دیا کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں، پولیس اور انتظامیہ شدید موسم میں بھی آپ کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہے۔ڈی پی او مری نے ہدایت کی کہ شہری اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی کی خاطر مری کی جانب سفر سے مکمل گریز کریں، جبکہ مری میں موجود افراد گاڑیوں میں ہیٹر استعمال کرتے وقت آکسیجن کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک آخری سیاح کا محفوظ انخلاء مکمل نہیں ہو جاتا، تمام افسران فیلڈ میں ڈٹے رہیں گے۔








