مسئلہ کشمیرکو شامل کئے بغیر جنوبی ایشیاءبارے امریکی پالیسی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاعی پیداوار کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی افغان پالیسی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسی اس وقت تک بامعنی اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جب تک امریکا اپنی جنوبی ایشیاءکی پالیسی کو مسئلہ کشمیرکو شامل نہیں کرتا۔ مسئلہ کشمیر اس …

اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاعی پیداوار کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی افغان پالیسی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسی اس وقت تک بامعنی اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جب تک امریکا اپنی جنوبی ایشیاءکی پالیسی کو مسئلہ کشمیرکو شامل نہیں کرتا۔ مسئلہ کشمیر اس وقت بھی خطے کا فلیش پوائنٹ ہے۔ وہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ منگل کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہاکہ ہم جنوبی ایشیاءکے حوالے سے امریکی پالیسی کو مایوس کن قرار دے چکے ہیں کیونکہ اس کے اندر حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا اب بھی نہیں سمجھ سکا کہ افواج کے استعمال سے سیاسی مسائل حل نہیں ہوتے ۔ امریکا نے 16 سال قبل افغانستان میں ایک لاکھ 40 ہزار فوجی اتارے تھے لیکن آج تک اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اس مرتبہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں بھارت کو لانے کا منصوبہ بنایا ہے، دراصل بعض بین الاقوامی قوتیں پاکستان میں ہونے والی ترقی ، معاشی استحکام ، پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دیگر منصوبوں اور اقدامات سے ناخوش ہیں اور وہ قوتیں چاہتی ہیں کہ سی پیک کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جائے لیکن پاکستان ہرگز ایسا نہیں ہونے دے گا۔

Leave a Reply