اسلام آباد ۔ 29 اگست (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ بھارت جو مرضی کہتا رہے ،کشمیر سے متعلق حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے،یہ راستہ کتنا بھی دشوار کیوں نہ ہو،فیصلہ ا سی موقف پر ہوگا۔مقبوضہ …
مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، بھارت جو مرضی کہتا رہے کشمیر سے متعلق حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے،دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 اگست (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ بھارت جو مرضی کہتا رہے ،کشمیر سے متعلق حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے،یہ راستہ کتنا بھی دشوار کیوں نہ ہو،فیصلہ ا سی موقف پر ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف میں جانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے گزشتہ 25 روز سے دنیا سے منقطع ہیں اور وہاں ادویات اور کھانے پینے کی اشیاءکی قلت ہو چکی ہے جبکہ ذرائع مواصلات کو بھی بھارت نے بند کر رکھا ہے۔مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھاری فوج کی ظالمانہ کارروائیوں اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی کی منافقت اب پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے پہلے کہتے تھے یہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے اب کہتا ہے یہ اندرونی معاملہ ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اورپاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔یہ مسلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے۔








