مسئلہ کشمیر کوئی نظریاتی بحث یا کاغذی معاملہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کی جدوجہد ہے، مشعال ملک

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):امن و ثقافت تنظیم (Peace and Culture Organization) کی چیئرپرسن اور حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی نظریاتی بحث یا کاغذی معاملہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کی جدوجہد ہے جو دنیا کی سب سے بڑی قابض فوج کے خلاف غیر مسلح ہو کر مزاحمت کر رہی ہے اور ایک خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹ پر بیٹھی ہوئی …

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):امن و ثقافت تنظیم (Peace and Culture Organization) کی چیئرپرسن اور حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی نظریاتی بحث یا کاغذی معاملہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کی جدوجہد ہے جو دنیا کی سب سے بڑی قابض فوج کے خلاف غیر مسلح ہو کر مزاحمت کر رہی ہے اور ایک خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹ پر بیٹھی ہوئی ہے۔یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ ان کے لیے کشمیر ایک ذاتی مسئلہ ہے کیونکہ ان کے شوہر یاسین ملک اس وقت بھارت کی تہاڑ جیل کے ڈیتھ سیل میں قید ہیں جہاں انہیں سزائے موت کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یاسین ملک کو 7×5 فٹ کے سیل میں رکھا گیا ہے اور کسی بھی سماعت پر انہیں پھانسی دی جا سکتی ہے۔مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی عدالتی نظام میں کسی کشمیری کو انصاف حاصل کرنے کا حق نہیں دیا جاتا، یاسین ملک کو نہ وکیل فراہم کیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنے دفاع کا مکمل موقع دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری وکلاء کو دھمکیوں، قتل اور دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی تناظر میں یاسین ملک کے وکیل راجہ طفیل پراسرار طور پر انتقال کر گئے جس کے بعد یاسین ملک نے خود اپنا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ آن لائن عدالتی کارروائی کے دوران یاسین ملک کی آواز بار بار بند کی جاتی رہی جبکہ جج کی آواز کو بھی اس انداز میں محدود کیا گیا کہ موثر رابطہ ممکن نہ ہو سکا، یاسین ملک کو نہ عدالت میں جسمانی طور پر پیش ہونے دیا گیا اور نہ ہی انہیں بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی جیلوں میں کشمیری قیادت کے متعدد رہنما قید ہیں جن میں مسرت عالم، آسیہ اندرابی اور فہمیدہ صوفی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف ایک قیدی کی اہلیہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک کشمیری، ایک پاکستانی اور ایک ماں کے طور پر بات کر رہی ہیں، جو گزشتہ ساڑھے گیارہ سال سے اپنی بیٹی کی پرورش اکیلے کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے اپنے والد کو آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب وہ ان کی گود میں تھی۔ انہوں نے خود کو ایک ’’ہاف وڈو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہیں معلوم ہے کہ یاسین ملک کہاں قید ہیں مگر انہیں نہ ملاقات کی اجازت ہے، نہ بات چیت، نہ خطوط اور نہ ہی ای میل کی سہولت حاصل ہے اور وہ گزشتہ ساڑھے چھ سال سے مکمل تنہائی میں ہیں۔مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک نے مسلح جدوجہد ترک کر کے گاندھی اور قائداعظم محمد علی جناح کے فلسفے کے مطابق پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، یہ یقین دہانی کروائے جانے پر کہ عالمی برادری کشمیری عوام کی آواز سنے گی تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پرامن راستہ اپنانے کی بھاری قیمت پوری کشمیری قوم ادا کر رہی ہے جس میں معاشی، سیاسی، سماجی، اخلاقی اور روحانی نقصانات شامل ہیں۔

انہوں نے گزشتہ سال پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے کشمیر کو صرف اس وقت یاد کیا جب صورتحال ایک چار روزہ جنگ اور ایٹمی تصادم کے خطرے تک جا پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں فوری طور پر متحرک ہوئیں کیونکہ کشمیر دنیا کا واحد حقیقی ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے۔مشعال ملک نے سوال اٹھایا کہ اگر یاسین ملک کو پھانسی دی گئی تو یہ کشمیری عوام کے لیے کیا پیغام ہوگا؟ کہ پرامن، جمہوری اور غیر مسلح جدوجہد کی کوئی قدر نہیں؟

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو کشمیری عوام کے ردعمل کے نتائج ناقابلِ تصور ہوں گے کیونکہ عوام صبر کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں معلومات تک رسائی تقریباً ناممکن بنا دی گئی ہے، پانچ اگست کے بعد کشمیری عوام عالمی منظرنامے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔مشعال ملک نے عالمی قیادت سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر پر جنگ بندی کو محض ایک وقفہ نہ سمجھا جائے بلکہ دیرپا اور منصفانہ حل کی جانب عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرنا عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

 

مزید خبریں