اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):او آئی سی۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ مسلم دنیا میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل مضبوط تعلیمی شراکت داری اور مہارت یافتہ پیشہ ور افراد کی شدید کمی کو مشترکہ جدّت کاری کے ذریعے دور کرنے پر منحصر ہے۔وہ اسلام آباد میں کامسٹیک سیکرٹریٹ میں منعقدہ کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس (CCoE) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے …
مسلم دنیا میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل مضبوط تعلیمی شراکت داری اور مہارت یافتہ پیشہ ور افراد کی شدید کمی کو مشترکہ جدّت کاری کے ذریعے دور کرنے پر منحصر ہے،پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):او آئی سی۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ مسلم دنیا میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل مضبوط تعلیمی شراکت داری اور مہارت یافتہ پیشہ ور افراد کی شدید کمی کو مشترکہ جدّت کاری کے ذریعے دور کرنے پر منحصر ہے۔وہ اسلام آباد میں کامسٹیک سیکرٹریٹ میں منعقدہ کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس (CCoE) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں او آئی سی کے رکن اور مبصر ممالک کی نمایاں جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس خطے میں سائنسی معیار اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ تقریب میں ایران، صومالیہ، فلسطین، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، بنگلہ دیش، بینن، کیمرون، گیبون، کوٹ ڈی آئیووائر اور سینیگال سمیت متعدد ملکوں کی جامعات سے 30 کے قریب بین الاقوامی مندوبین نے حصہ لیا جبکہ پاکستان کی معروف جامعات کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ او آئی سی ممالک کو درپیش بنیادی ترقیاتی چیلنجوں میں سے ایک ہنر مند پیشہ ور افراد کی کمی ہے، جسے مضبوط اعلیٰ تعلیمی نظام اور علم و مہارت کے تبادلے کے وسیع مواقع سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ-19 وبا کے بعد عالمی اعلیٰ تعلیم کا منظرنامہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہےجہاں ڈیجیٹل لرننگ ٹولز اور ہائبرڈ ماڈلز نے جغرافیائی اور معاشی سرحدوں سے ماورا ہو کر مہارت پر مبنی تربیت اور مختصر انٹرایکٹو پروگراموں تک رسائی کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعاون، علم کا تبادلہ، بہترین عملی نمونوں کی شیئرنگ، محققین کے تبادلے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ تعلیمی پروگرام او آئی سی خطے کو درپیش تعلیمی چیلنجز کے حل کے لیے ناگزیر ہیں۔
اجلاس میں کردار سازی، مستقبل کی یونیورسٹیوں کے ماڈلز اور معاشرے، معیشت اور صنعت کے باہمی تعلق پر دو تکنیکی سیشن شامل تھے۔مندوبین نے بین الاقوامی تربیت کاروں اور سینئر تعلیمی رہنماؤں کی قیادت میں سوچ بچار پر مبنی سیشنوں میں حصہ لیا، جن میں اس بات پر غور کیا گیا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں جامعات کو کس طرح خود کو متعلقہ رکھنا ہوگا۔ان مباحثوں میں مہارت پر مبنی تعلیم، جدید تدریسی طریقوں،یونیورسٹی–صنعت شراکت داری اور ایسے تربیتی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا گیا جو گریجویٹس کو ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کر سکیں۔سالانہ اجلاس میں CCoE کے کلیدی موضوعات پر مبنی ایک جامع مباحثہ بھی شامل تھا۔
جامعات نے اپنے وژن پیش کیے جبکہ کامسٹیک حکام نے اپنی مختلف پہل کاریوں اور پروگراموں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔بعد ازاں شرکا نے منصوبہ عمل 2026 پر جامع مشاورت کی، جس میں بین الجامعات تعاون کو فیکلٹی ایکسچینج، طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت، انتظامی تربیت اور مشترکہ تحقیق و جدت کاری کے منصوبوں کے ذریعے وسعت دینے پر غور کیا گیا تاکہ او آئی سی ممالک کے تحقیقاتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے CCoE کی رکن جامعات کو تحقیقاتی فیلوشپ پروگرام، ڈسٹنگویشڈ اسکالرز پروگرام، ماحولیات و ماحولیاتی بحالی فورم، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجیز کے تربیتی مرکز اور او آئی سی ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن پورٹل سمیت کامسٹیک کے مرکزی پروگراموں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
ان پروگراموں سے متعلق تفصیلی معلومات ایک جامع پریزنٹیشن کے ذریعے فراہم کی گئیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے CCoE نیٹ ورک میں مشترکہ اقدامات اور استعداد کار بڑھانے کے لیے کامسٹیک کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس میں قائم ہونے والی شراکت داریاں طلبہ، فیکلٹی اور محققین کے لیے دیرپا اور ٹھوس فوائد لائیں گی اور مسلم دنیا کی مستقبل کی خوشحالی کا انحصار بڑی حد تک اعلیٰ تعلیم کے معیار اور دستیابی پر ہے۔سالانہ اجلاس نے گزشتہ سال حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات کی نشاندہی کرنے اور او آئی سی خطے میں سائنسی معیار اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی تعاون کو مزید مستحکم کیا۔








