مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے، حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے، حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات انہوں نے پیر کو آئی بی اے کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ ڈائیلاگ ‘‘Can Facts Survive AI? Fighting Misinformation Together’’ سے …

اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے، حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات انہوں نے پیر کو آئی بی اے کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ ڈائیلاگ ‘‘Can Facts Survive AI? Fighting Misinformation Together’’ سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اس اہم تقریب کے انعقاد پر آئی بی اے، سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم اور یو این ڈی پی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے بعد غلط معلومات سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اطلاعات و نشریات اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جن میں پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا قیام بھی شامل ہے جو اب وزارتِ اطلاعات و نشریات کا ملحقہ ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے جبکہ جعلی خبروں پر باقاعدہ فیک انفارمیشن کا لیبل لگایا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی ویریفائی نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے، یہ انتہائی حوصلہ افزا اقدام ہے۔ آئی بی اے نے آئی ویریفائی پاکستان کے قیام کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے جس نے مشکل اوقات میں غلط معلومات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ویریفائی کے حوالہ جات نہ صرف قومی سطح پر دیئے جاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی جرائد اور عالمی میڈیا پلیٹ فارمز بھی اسے کثرت سے بطور مستند ذریعہ استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے غلط معلومات کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر سکتی۔ اس ضمن میں میڈیا انڈسٹری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور میڈیا ہاؤسز کو آگے آ کر اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اے آئی سے تیار کردہ مواد کو واضح طور پر اے آئی کے طور پر لیبل کرنا شروع کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے اے آئی سے تیار کردہ تمام مواد کے لئے مناسب لیبلنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ iVerify جیسا نظام نہ صرف پاکستان میں ذمہ دار صحافت کو فروغ دینے بلکہ جعلی خبروں کی فوری اور مؤثر نشاندہی کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں پوری کمیونٹی، حکومت، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی سب اپنا کردار ادا کریں۔

بھارت کے ساتھ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں نہایت موثر انداز میں کامیابی حاصل کی، اس دوران بیانیے کا چیلنج موجود تھا جس کا ہم نے نہایت موثر طریقے سے مقابلہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ مزید ہم آہنگی، وسیع تعاون اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں مضمر ہے جس کے لئے وزارتِ اطلاعات مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مس انفارمیشن سے نمٹنے کے لئے مکمل مینڈیٹ دے رکھا ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی سے بھی درخواست کی کہ وہ آگے آئیں اور اس ضمن میں اپنا فعال کردار ادا کریں، ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ہم یو این ڈی پی کے ساتھ پہلے ہی ایک پروگرام پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا گیا جس کا مقصد نہ صرف وزارتِ اطلاعات کے افسران بلکہ میڈیا پروفیشنلز کو غلط معلومات کے تدارک کے لئے ضروری مہارتیں فراہم کرنا تھا تاکہ وہ مؤثر انداز میں اس چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے آئے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق دنیا کو درپیش سب سے بڑا خطرہ غلط معلومات کا ہے کیونکہ یہ انتشار اور افراتفری پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ویریفائی نے جس طرح اپنی پہچان بنائی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے اور ہم اس نیک مقصد کے لئے ہر وقت آپ کے ساتھ ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں خاص طور پر اپنی نوجوان نسل سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ ہم غلط معلومات کو شکست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق مصنوعی ذہانت کے باوجود زندہ رہ سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یقینی بنائیں کہ اے آئی کو ہر شعبے میں، چاہے زرعی ٹیکنالوجی، فِن ٹیک، ہیلتھ ٹیک، ایڈ ٹیک یا دیگر کسی بھی ٹیکنالوجی میں ہو، ذمہ داری کے ساتھ مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔

انہوں نے دہرایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اے آئی سے تیار کردہ تمام مواد کو واضح طور پر ”اے آئی“ کے طور پر لیبل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مصنوعی ذہانت کا بہت سا منفی استعمال بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو تعلیم اور آگاہی دینا ہوگی اور معاشرے کے تمام طبقات کو یہ سکھانا ہوگا کہ اے آئی کو کس طرح ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یو این ڈی پی، آئی بی اے، سینٹر فار ایکسی لینس اِن جرنلزم، دیگر اداروں اور خاص طور پر میڈیا ہاؤسز کے ساتھ تعاون کیا جائے تو ان شاء اللہ ہم اس چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں اور درست حقائق عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ ہم مل کر ایک موثر عملدرآمد کا نظام وضع کریں اور حقائق دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال کسی پوشیدہ ایجنڈے یاایسے نظریات کے فروغ کے لئے نہ ہو جو ہماری قومی پالیسی اور سماجی اقدار کے منافی ہوں۔ آخر میں انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد اس عظیم ادارے کا دورہ کریں گے۔

 

مزید خبریں