واشنگٹن۔17نومبر (اے پی پی):امریکی محکمہ دفاع ’’پینٹاگون‘‘ نے کہا ہے کہ مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایک اور مشتبہ کشتی پر حملہ میں کشتی پر سوار 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ان کی وینزویلا کے صدر نکولس مادوروسے بات چیت ہو سکتی ہے۔ ۔رائٹرز کے مطابق امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق کشتی بین الاقوامی …
مشرقی بحرالکاہل میں منشیات بردار کشتی پر امریکی حملہ میں 3 افراد ہلاک ، امریکی صدر کا نکولس مادورو سے بات چیت کا عندیہ

مزید خبریں
واشنگٹن۔17نومبر (اے پی پی):امریکی محکمہ دفاع ’’پینٹاگون‘‘ نے کہا ہے کہ مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایک اور مشتبہ کشتی پر حملہ میں کشتی پر سوار 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ان کی وینزویلا کے صدر نکولس مادوروسے بات چیت ہو سکتی ہے۔ ۔رائٹرز کے مطابق امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق کشتی بین الاقوامی پانیوں میں ایک معروف منشیات اسمگلنگ روٹ پر سفر کر رہی تھی اور اس پر منشیات کی موجودگی کی انٹیلی جنس تصدیق موجود تھی جبکہ کشتی پر حملہ جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن سپیئر نے کیا۔یہ رواں سال ستمبر کے اوائل سے اب تک منشیات بردار کشتیوں پر امریکی فوج کا 21 واں حملہ ہے جن میں مجموعی طور پر 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی کانگریس کے ارکان، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض اتحادی ممالک نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اسے یہ کارروائیاں کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے اور محکمہ انصاف کی قانونی رائے کے مطابق ان آپریشنز میں حصہ لینے والے امریکی فوجی سزا سے مستثنیٰ ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ مبینہ منشیات نیٹ ورک "کارٹیل دے لوس سولیس” کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا جس کے بعد امریکا میں کسی بھی فرد کی طرف سے اس گروہ کو مدد فراہم کرنا قانوناً جرم ہو گا۔امریکی حکام کے مطابق کارٹیل دے لوس سولیس ٹرین دے آراگوا نامی جرائم پیشہ تنظیم کے ساتھ مل کر امریکا کو منشیات بھیجنے میں ملوث ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو اس کارٹیل کی قیادت کرتے ہیں جس کی وینزویلا کے صدر کئی بار تردید کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وینزویلا کی مادورو حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشن پر بھی غور جاری ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ان کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینز ویلا امریکا کے سات بات چیت کا خواہاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی بحیرہ کیریبین میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث مشتبہ جہازوں کے خلاف رواں سال ستمبر سےاب تک کئے گئے 21 حملوں میں کم از کم 83 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی بحریہ نے سب سے بڑے طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور دیگر کئی جنگی جہازوں کی خطے میں آمد کی تصدیق کی ہے جس پر امریکی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ انسداد منشیات آپریشن ہے لیکن حقیقت میں اس بڑے پیمانے کی فوجی نقل و حرکت کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔وینزویلا کی حکومت نے امریکی صدر کے تازہ ترین بیان پر تبصرہ کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ امریکی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کی بحیرہ کیریبین میں آمد کے ساتھ "آپریشن سدرن سپیئر”میں ممکنہ طور پر حصہ لینے والے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کی تعداد تقریباً ایک درجن جہاز اور ان پر تعینات اہلکاروں و افسران کی تعداد 12,000 تک پہنچ گئی ہے۔








