اقوام متحدہ۔8مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے جبکہ جنگ کے باعث شہری آبادی کی مشکلات اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق ایران پر اسرائیل اور امریکا کی بمباری کے بعد شروع …
مشرق وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے ، انتونیو گوتریس

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔8مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے جبکہ جنگ کے باعث شہری آبادی کی مشکلات اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق ایران پر اسرائیل اور امریکا کی بمباری کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کو آٹھ دن گزر چکے ہیں اور اس دوران پورے مشرقِ وسطیٰ میں جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے لبنان میں بڑے پیمانے پر افراتفری کی تصدیق کی ہے جہاں سینکڑوں پناہ گاہیں بھر چکی ہیں جبکہ بیروت کے پورے کے پورے مضافاتی علاقے خالی ہو چکے ہیں۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمدا سانی نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیاں، بیروت کے جنوبی مضافات، بقاع کے علاقے اور دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے احکامات اور ملک کے مختلف حصوں پر مسلسل فضائی حملے پہلے ہی تھکی ماندہ شہری آبادی کے لیے مزید مشکلات اور تکالیف کا باعث بن رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر ہونے والے حملے پورے خطے میں شہریوں کے لیے شدید مصائب اور نقصان کا باعث بن رہے ہیں اور عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرہ پیدا کر رہے ہیں، خصوصاً کمزور طبقات اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال کسی کے بھی قابو سے باہر ہو سکتی ہے، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ لڑائی بند کی جائے اور سنجیدہ سفارتی مذاکرات شروع کیے جائیں ۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے دوران وہ ایران سے صرف “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کو ہی قبول کریں گے جبکہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہو گا سوائے اس کے کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے۔ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ہجرت کے لبنان میں مشن کے سربراہ میتھیو لوسیانو نے بتایا کہ بہت سی اجتماعی پناہ گاہیں خصوصاً بیروت اور جبل لبنان میں مکمل طور پر بھر چکی ہیں جس کے باعث لوگوں کو دیگر علاقوں خاص طور پر شمالی لبنان، القاع اور بقاع کے محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے بڑھتے ہوئے بحران کو ایک بڑی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے لیے فوری علاقائی ردعمل کی ضرورت ہے۔یو این ایچ سی آر کے ڈائریکٹر برائے ہنگامی حالات آیاقی ایتو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ تنازعہ پورے خطے اور جنوب مغربی ایشیا کی جانب بڑی آبادیوں کی نقل مکانی کا باعث بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد پہلے ہی مہاجرین، اندرونی طور پر بے گھر یا حال ہی میں واپس آنے والے افراد ہیں جس سے میزبان ممالک پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جنگ کے باعث پیدا ہونے والا بڑا تجارتی بحری بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے جس کی وجہ سے ایران کے جنوب میں واقع آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی ہے،یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔دریں اثنا اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر ایروانی نے سلامتی کونسل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ یا کشیدگی نہیں چاہتا لیکن وہ کبھی بھی اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سرزمین، خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔








