مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، دو ریاستی حل کے لیے ایک اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں، سعودی عرب

ریاض ۔27ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ایک اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں، تنازعے کا حل مستقل فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔عرب نیوز کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ہم ایک اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کا مقصد دو ریاستی حل کا نفاذ ہے،مملکت اور اتحادی …

ریاض ۔27ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ایک اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں، تنازعے کا حل مستقل فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔عرب نیوز کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ہم ایک اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کا مقصد دو ریاستی حل کا نفاذ ہے،مملکت اور اتحادی اس منصوبے کے تحت ریاض، برسلز، قاہرہ، اوسلو، عمان اور انقرہ میں اعلٰی سطح کے اجلاس منعقد کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جنگ جاری رکھنا کیسے واحد آپشن ہو سکتا ہے، دیگر آپشنز بھی ہونے چاہئیں،جنگ بندی اور سفارت کاری کے اپنے مطالبے کو دہراؤں گا۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مغربی اتحادیوں کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی تجویز اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے مسترد کرنا باعث حیرت ہے،جنگ بندی کی تجویز میں لبنان اور اسرائیل دونوں کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں تنازعے کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں ،تاہم نومبر میں یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے جنگ میں ایک مختصر وقفے کے علاوہ تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ہم نے جنگ کے آغاز سے ہی ایک ہی صورتحال دیکھی ہے، ہر بار ہمیں بتایا جاتا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے قریب ہیں مگر یہ نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہ اتحاد اس مسئلے کے حل کے لیے کام کی کوشش کر رہا ہے اور مملکت کی توجہ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔واضح رہے کہ امریکا، فرانس اور اتحادیوں کی جانب سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازعہ روکنے کے مطالبے کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مسترد کر دیا ہے۔