وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا فوڈ سکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ (KP-FSSP) کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
مشیر زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا فوڈ سکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کا جائزہ اجلاس
پشاور۔ 04 جون (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبر پختونخوا فوڈ سکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ (KP-FSSP) کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
محکمہ زراعت خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ فضل قادر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں منصوبے کے تحت حاصل کیے گئے اہداف، جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے مشیر زراعت کو منصوبے کے مختلف اجزاء اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد عمر نے کہا کہ صوبائی حکومت زرعی شعبے کی ترقی، غذائی تحفظ کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے زرعی پیداوار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کاشتکاروں کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی، جس سے صوبے کا زرعی شعبہ مزید مستحکم ہوگا۔بریفننگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ 88 ملین امریکی ڈالر لاگت کے خیبر پختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں زرعی ترقی، غذائی تحفظ کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔ منصوبے کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ سات اضلاع میں کاشتکاروں کی بحالی، زرعی اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور جدید زرعی نظام کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اب تک 9 لاکھ 23 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کا سب سے بڑا ڈیجیٹل فارمر ڈیٹا بیس قائم ہوا ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ای سبسڈی سسٹم اور برانچ لیس بینکنگ ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جبکہ کسانوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر گریوینس ریڈریسل میکنزم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ کراپ رپورٹنگ سروسز (CRS) کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ فیلڈ سرگرمیوں کے لیے 500 موٹر سائیکلیں، 6 ٹریکٹرز اور 6 منی ٹرک فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد زرعی دفاتر اور لیبارٹریوں کی سولرائزیشن اور بحالی کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت 4 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو گندم، دھان اور کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، 42 ہزار سبزی کاشتکاروں کی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ 28 ہزار خواتین کو کچن گارڈننگ اور فوڈ پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں 25 ہزار خواتین میں سیڈ کلیننگ اور محفوظ زرعی استعمال کی کٹس بھی تقسیم کی جا چکی ہیں۔اس موقع پر مشیر زراعت میاں محمد عمر نے منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری سرگرمیوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچ سکیں۔









