مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا اقوام متحدہ کے زیرانتظام موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر سالانہ عالمی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ امیر ممالک کی ماحول دشمن طریقہ ترقی، وسائل کے بے دریغ استعمال، عالمی سطح پر جنگلات کی کٹائی کے باعث رونما ہونے والی عالمی حدت کا نتیجہ بننے والی موسمیاتی تباہ کاریوں سے پوری انسانیت اور قدرتی وسائل کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں تاہم موسمیاتی تباہ کاریوں سے …

اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ امیر ممالک کی ماحول دشمن طریقہ ترقی، وسائل کے بے دریغ استعمال، عالمی سطح پر جنگلات کی کٹائی کے باعث رونما ہونے والی عالمی حدت کا نتیجہ بننے والی موسمیاتی تباہ کاریوں سے پوری انسانیت اور قدرتی وسائل کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں تاہم موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے عالمی حدت کا باعث بننے والی ماحول دشمن کاربن گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک امین اسلم نے اقوام متحدہ کے زیرانتظام موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر سالانہ عالمی کانفرنس سے اپنے اہم خطاب کے دوران کیا۔ دو ہفتے پر محیط دورانیہ کی یہ کانفرنس 13 دسمبر تک سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں جاری رہے گی۔ کانفرنس میں 196ممالک سے پچاس ہزار کے لگ بھگ سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموں کے لوگ شرکت کررہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تباہ کاریوں اور زہریلی کاربن گیسوں میں کمی لانا ہے۔ ملک امین اسلم نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس عالمی موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس کے مقاصد کے حصول اور دنیا کو موسمیاتی تباہ کاریوں کے خطرات پر قابو پانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرتا رہے گا۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ عالمی حدت کا باعث بننے والی کاربن گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی بگاڑ پر قابو پانے کے لیے موجودہ حکومت نے اپنے وسائل بروئے کار لا کر مختلف پروگرام شروع کردیئے ہیں، جس میں ملک بھر میں دس ارب پودے لگانے کا منصوبہ شہروں کو صاف ستھرا بنانے کے لیے کلین گرین پاکستان انڈیکس اور کلین گرین پاکستان پروگرام، ہوائی آلودگی کو روکنے کے لیے برقی گاڑیوں کو ملک میں متعارف کرانے کے حوالے سے قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا متعارف کرانا، پانی کی اسٹوریج کو بہتر کرنے کے لیے ریچارج پاکستان پروگرام جیسے منصوبے شامل ہیں، جن کی پذیرائی عالمی سطح پر ہو رہی ہے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق معاشی، سماجی، ماحولیاتی نقصانات پر قابو پانے اور لوگوں اور ان کے ذریعہ معاش کو ان خطرات سے محفوظ کرنے کے لیے سات سے چودہ ارب ڈالرذ درکار ہیں۔ انہوں نے عالمی رہنماوں سے گذارش کی کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مالی، تکنیکی مدد فراہم کرنے اقدامات کریں۔

مزید خبریں