مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا پاکستان کی معاشی بحالی، اصلاحات اور ترقی کے نئے مرحلے پر اظہارِ اطمینان

مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے، جو ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور مضبوط معاشی بنیادوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

کراچی۔31جولائی (اے پی پی):مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے، جو ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور مضبوط معاشی بنیادوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوکراچی میں بینک اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار "پاکستان اکنامک آؤٹ لک: مالی سال 2027 اور اس کے بعد” سے خطاب میں کیا۔خرم شہزاد نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، معاشی استحکام بحال ہو چکا ہے اور اب حکومت کی توجہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس میں زراعت، بڑی صنعتوں (LSM) اور خدمات کے شعبے کی بہتر کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مؤثر مالیاتی حکمت عملی کے نتیجے میں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم سطح پر رکھا گیا، جبکہ قرضوں کا مجموعی قومی پیداوار سے تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد پر آ گیا، جو مالیاتی نظم و ضبط اور محتاط قرضہ جاتی انتظام کا ثبوت ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ 2022 میں 17.5 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 150 ملین امریکی ڈالر سے بھی نیچے آ گیا ہے، جبکہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2023 کے اوائل میں تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو تین ماہ سے زائد درآمدات کے لیے کافی ہیں اور بیرونی شعبے کے استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے مثبت اثرات پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ میں بھی نمایاں ہیں، جہاں کارپوریٹ اداروں کی جانب سے ابتدائی عوامی حصص (IPO) کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔مشیر وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت کے رسائی برائے مالیات (Access to Finance) اقدامات کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے گھریلو صارفین ، کسانوں اور کاروباری افراد کو سہولت مل رہی ہے اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کو تقویت مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری، توانائی، سرکاری قرضہ جات کے انتظام، ٹیکس نظام، ٹیرف اصلاحات، ڈیجیٹل پاکستان اور مالیاتی سہولیات تک رسائی سمیت مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اب تک نجکاری کے 28 منصوبوں پر عمل شروع ہو چکا ہے، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی 1.2 ارب امریکی ڈالر کی کامیاب بولی بھی شامل ہے، جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل بھی آگے بڑھ رہا ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ ان اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، جن میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں بہتری، صنعتی شعبے کی بحالی، نجی شعبے اور زرعی قرضوں میں اضافہ، کارپوریٹ سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری شامل ہے، جو وسیع بنیادوں پر معاشی بحالی کا مظہر ہیں۔اس سے قبل سیمینار سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر محمد امین خان لوڈھی، علی خضر، ڈاکٹر علی حسنین اور خرم حسین نے بھی خطاب کیا۔سیمینار میں سینئر بینکرز، سرمایہ کاروں، مالیاتی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف معاشی اداروں کے اراکین نے شرکت کی۔