قاہرہ ۔27مارچ (اے پی پی):مصر نے اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے کے جھوٹے الزامات کی تردید کی ہے۔ العربیہ کے مطابق مصر میں اسٹیٹ انفارمیشن سروس نے اعلان کیا ہے کہ بعض نیوز ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے حال ہی میں اس طرح کے جھوٹے دعوے کئے کہ مصر نے قابض ریاست (اسرائیل) کو فوجی امداد پیش کی ہے۔ یہ ذرائع مصر کے بارے میں جھوٹے …
مصر کی اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے کے بارے میں جھوٹے الزامات کی تردید

مزید خبریں
قاہرہ ۔27مارچ (اے پی پی):مصر نے اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے کے جھوٹے الزامات کی تردید کی ہے۔ العربیہ کے مطابق مصر میں اسٹیٹ انفارمیشن سروس نے اعلان کیا ہے کہ بعض نیوز ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے حال ہی میں اس طرح کے جھوٹے دعوے کئے کہ مصر نے قابض ریاست (اسرائیل) کو فوجی امداد پیش کی ہے۔
یہ ذرائع مصر کے بارے میں جھوٹے الزامات پھیلانے کے عادی ہیں، یہ مصر کے عظیم عوام کے ہاتھوں دہشت گرد جماعت کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلسل ایسا کر رہے ہیں۔سروس نے واضح کیا کہ اس طرح کے جھوٹے دعوؤں تک گر جانا یہ باور کراتا ہے کہ حقیقت سے متعلق دماغی عدم توازن اور جھوٹ بولنے کی عادت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ رجحان اب ان ویب سائٹوں اور میڈیا پلیٹ فارموں کا ایک مستقل اور بنیادی جزو بن چکا ہے۔ یہ دماغی عدم توازن اور جھوٹ بولنے کی عادت ہیں جو ان کو غزہ پر ہونے والے خون ریز حملے کے حوالے سے مصر کے واضح اور ثابت موقف کو دیکھنے میں عارضی یا مستقل طور پر اندھا کر دیتی ہیں۔ مصر نے تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ غزہ کے لیے بھرپور مدد فراہم کی۔
سروس کا مزید کہنا تھا کہ اس ذہنی انتشار اور جھوٹ کی عادت نے اس حقیقت کو دھندلا دیا کہ مصر ہی تھا جس نے (اسرائیلی) جارحیت کے آغاز کے بعد سے فلسطینی بھائیوں کی غزہ کی پٹی سے جبری ہجرت کے ذریعے مسئلہ فلسطین کے تصفیے کو مسترد کرنے کے سلسلے میں عرب اور بین الاقوامی موقف کی بنیاد رکھی۔ اسی کے باعث مصر کو قابض ریاست کے کئی ذمے داران اور میڈیا کی جانب سے مخالف مہموں کا سامنا کرنا پڑا۔








