مصنوعی ذہانت سے تیار خبروں کا نظام باعث تشویش ،اس شعبے کے لیے باقاعدہ ضابطہ سازی کی جائے،آئی پی پی آر

لندن ۔2فروری (اے پی پی):برطانیہ کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ (آئی پی پی آر)نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)سے تیار کی جانے والی خبروں کے نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس شعبے کے لیے باقاعدہ ضابطہ سازی کی جائے جس میں منصفانہ معاوضے اور خبروں کے ماخذ کی شفاف نشاندہی کو یقینی بنایا جائے ۔ چینی خبررساں ادارے شنہوا کے …

لندن ۔2فروری (اے پی پی):برطانیہ کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ (آئی پی پی آر)نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)سے تیار کی جانے والی خبروں کے نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس شعبے کے لیے باقاعدہ ضابطہ سازی کی جائے جس میں منصفانہ معاوضے اور خبروں کے ماخذ کی شفاف نشاندہی کو یقینی بنایا جائے ۔

چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق اس ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں آئی پی پی آر نے کہا کہ اے آئی ٹولز تیزی سے عوام کے لیے خبروں تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بنتے جا رہے ہیں جس سے خبر رسانی کا پورا نظام یکسر تبدیل ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بڑی اے آئی کمپنیاں انٹرنیٹ پر نئے ’’گیٹ کیپرز‘‘ کے طور پر ابھر رہی ہیں جو اس بات پر اثرانداز ہو رہی ہیں کہ شہری معلومات تک کس طرح رسائی حاصل کرتے ہیں اور عوامی رائے کی تشکیل کیسے ہوتی ہے، یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بعض خبر رساں اداروں کو چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جیمنی سمیت نمایاں اے آئی ٹولز میں مناسب حوالہ نہیں دیا جا رہا۔

تھنک ٹینک نے خبردار کیا کہ بعض ذرائع کا غیر متناسب استعمال صارفین کو مختلف نقطۂ نظر سے محروم کر سکتا ہے اور نادانستہ طور پر مخصوص خیالات یا ایجنڈوں کو فروغ دے سکتا ہے۔آئی پی پی آر نے صحت مند اے آئی نیوز ماحول کے قیام کے لیے تین اہم پالیسی تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز میں کہا گیا کہ حکومتیں اے آئی کمپنیوں کو استعمال شدہ خبروں کے بدلے ادائیگی کا پابند بنائیں اور اجتماعی لائسنسنگ معاہدوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ خبر رساں اداروں کو شامل کیا جائے۔

دوسری تجویز کے تحت اے آئی کمپنیوں کو خبروں کے لیے واضح اور معیاری ’’نیوٹریشن لیبلز‘‘ متعارف کرانے چاہئیں تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ اے آئی کے جوابات کہاں سے آتے ہیں اور کس طرح تیار کیے جاتے ہیں۔تیسری تجویز میں حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ اے آئی کے دور میں آزاد اور خودمختار صحافت کے تحفظ کے لیے سرکاری فنڈنگ فراہم کریں۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خبر رسانی کے نظام کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اس لیے فوری کارروائی ناگزیر ہے۔

مزید خبریں