لاہور۔1مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ عالمی معیشت اور تجارت ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، معدنی وسائل، ترقی کے اہم محرکات اور عالمی اثر و رسوخ کے بنیادی ذرائع کے طور پر سامنے آئیں گے۔ اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ …
مصنوعی ذہانت و معدنی وسائل مستقبل کی معیشت کے نئے محرکات ہوں گے، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔1مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ عالمی معیشت اور تجارت ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، معدنی وسائل، ترقی کے اہم محرکات اور عالمی اثر و رسوخ کے بنیادی ذرائع کے طور پر سامنے آئیں گے۔
اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ علاقائیت اور دوطرفہ تجارتی معاہدے اب عالمی پالیسی سازی کا نیا معمول بن چکے ہیں، موجودہ حالات میں ممالک اپنی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے، بیرونی انحصار کم کرنے، اقتصادی سلامتی کو یقینی بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں تقریبا 60 فیصد جبکہ عالمی سطح پر 40 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت کے باعث یا تو بہتر ہوں گی،ختم ہو جائیں گی یا ان کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے غالب دنیا میں ترقی پذیر ممالک کو دوہری حکمت عملی اپنانا ہوگی، ایک طرف جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا اور دوسری جانب مقامی روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ افتخار علی ملک نے خبردار کیا کہ آنے والی تبدیلیاں دیرپا اثرات مرتب کریں گی، لہذا پاکستان کو نئی عالمی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا اور اختراعی پالیسی اقدامات اختیار کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک باہمی مفاد پر مبنی مواقع کی تلاش، اقتصادی شراکت داریوں میں تنوع اور نئے تعاوناتی فریم ورک کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں تاکہ خطرات کم اور معاشی استحکام میں اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نایاب ارضی دھاتیں چوتھے صنعتی انقلاب کا بنیادی جزو اور اس شعبے میں چین کو غیر معمولی برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی تیزی سے پھیلتی ہوئی اندرونی منڈی اور اس کے فروغ پر مسلسل توجہ مستقبل میں اس کی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گی۔








