مصنوعی ذہانت کا قواعد و ضوابط کے بغیر استعمال خطرے کا باعث ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ ۔25ستمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا قواعد و ضوابط کے بغیر استعمال خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔ شنہوا کے مطابق سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اب کوئی مستقبل کا خواب نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے، جو زندگی کے ہر شعبے، معلوماتی نظام، اور عالمی معیشت …

اقوام متحدہ ۔25ستمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا قواعد و ضوابط کے بغیر استعمال خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔

شنہوا کے مطابق سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اب کوئی مستقبل کا خواب نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے، جو زندگی کے ہر شعبے، معلوماتی نظام، اور عالمی معیشت کو تیزی سے بدل رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مناسب قواعد و ضوابط کے بغیر استعمال کیا گیا تو یہ خطرناک ہتھیار بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ انسانوں کو ہر صورت زندگی اور موت سے متعلق فیصلوں پر اختیار ہونا چاہیے اور مہلک خودکار ہتھیاروں پر پابندی کے لیے 2026 تک ایک قانونی معاہدہ تشکیل دیا جانا چاہیے۔سیکرٹری جنرل نے آخر میں کہا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہےاور اگر عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ کئے تو اے آئی کی سمت متعین کرنا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ انسانی وقار اور عالمی امن کے لیے ہمیں ابھی اقدام کرنا ہو گا، تاکہ اے آئی انسانیت کی خدمت کرےنہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔واضح رہے یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران اعلیٰ سطحی ہفتے کے موقع پر منعقد کیا گیا۔