فیصل آباد 19 دسمبر( اے پی پی ) : گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ معاشی اعشارئیے بہتر ہونے کی وجہ سے مالی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ قومی محاصل کی وصولی میں 20سے 30 فیصد ا ضافہ ہوا ہے۔ وہ آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میںمنعقدہ بزنس کمیو نٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کر …
معاشی اعشارئیے بہتر ہونے سے مالی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ، گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر رضا کا فیصل آباد چیمبر میں بزنس کمیونٹی سے خطاب
فیصل آباد 19 دسمبر( اے پی پی ) : گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ معاشی اعشارئیے بہتر ہونے کی وجہ سے مالی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ قومی محاصل کی وصولی میں 20سے 30 فیصد ا ضافہ ہوا ہے۔ وہ آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میںمنعقدہ بزنس کمیو نٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سٹیٹ بینک کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں تجارتی خسارے کو کم اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔ اور ڈالر کو فکسڈ بیس ریٹ سے نکال کر مارکیٹ فورسز پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے ڈالر کو 200 روپے سے بھی تجاوز کرنے کی پیشگوئیاں کیں جبکہ بہت سے ماہرین نے اس سلسلہ میں آئی ایم ایف سے معاہدے تک کی قیاس آرائیاں کیں۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اس سلسلہ میں حکومت نے درست فیصلہ کیا تھا، روپے اور ڈالر کی قدر میں استحکام سے برآمد کنندگان کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ کھل کر کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب معاشی استحکام کے فوائد فوری طور پر نجی شعبہ کو منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے پاکستان اور مصر کی معیشت کو بھی موازنہ کیا اور بتایا کہ مصرمیں صرف 24گھنٹوں کے دوران ڈالر کی قدر میں 125فیصد تک کا اضافہ کر دیا گیا جبکہ پاکستان میں 18مہینوں میں اس کی قدر کو بتدریج 55 فیصدتک بڑھایا گیا۔ اب مارکیٹ فورسز خود روپے کی قدر کا تعین کر رہی ہیں۔ شرح سود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مصر کے معاملے میں یہ شرح 18سے 19فیصد رہی جبکہ پاکستان میں اس وقت یہ صرف 13.25فیصد ہے۔ اسی طرح مصر میں افراط زر 30سے 35فیصد تھا جبکہ پاکستان میں اس کی شرح صرف 12فیصد ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تمام معاشی اعشاریے مثبت ہیں اور اب ہماری تمام تر توجہ افراط زر پر قابو پانے پر ہے تاکہ اس کے نتیجے میں عام لوگوں کو ریلیف دیا جا سکے۔ آئندہ چند ماہ تک افراط زر میں بتدریج کمی ہونا شروع ہو جائے گی۔ بچتوں کا افراط زر سے تقابلی جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی بچتوں کو بچت سکیموں میں انویسٹ کرنے کی بجائے رئیل اسٹیٹ کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی کوشش ہو گی کہ ان بچتوں کو بھی بینکنگ چینل میں لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے سرکاری محاصل کی وصولی میں 20سے 30فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اور اس وجہ سے صنعتکاروں اور خاص طور پر برآمد کنندگان کو مزید سہولتیں اور مراعات دی جا سکیں گی۔ پاکستان میں برآمدات کو بڑھانے کی زبردست گنجائش موجود ہے اور ہم اس کو اپنے جی ڈی پی سے دوگنا کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے برآمدکنندگان کیلئے سٹیٹ بینک کی مختلف سکیموں کا ذکر کیا اور بتایا کہ نئی مشینری کیلئے 3فیصد لانگ ٹرم فنانس مہیا کیا جا رہا ہے ۔ اس وقت پاکستان کی برآمدات ٹیکسٹائل کے گرد گھومتی ہیں جبکہ سٹیٹ بینک اس میں مزید سیکٹر ز کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ جیسے جیسے معاشی صورتحال بہتری ہو گی برآمد کنندگان کو مزید سہولتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سروسز کارپوریشن نے مختلف فوکس گروپ قائم کئے ہیں جن میں مائیکرو اور زراعت وغیرہ بھی شامل ہیں ان کی وجہ سے زرعی شعبہ کو قرضوں کی ترسیل میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی آگاہی کیلئے سٹیٹ بینک فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری سے مل کر مزید آگاہی سیشن بھی منعقد کرے گا ۔ انہوں نے کاروباری خواتین کیلئے کئی سکیموں کا ذکر کیا اور بتایا کہ سٹیٹ بینک ان سکیموں کیلئے کمرشل بینکوں کو صفر فیصد پر قرضہ دے رہا ہے جو ان پر صرف پانچ فیصد مارک اپ لے سکتے ہیں۔ اس طرح 60فیصد رسک کی ذمہ داری بھی سٹیٹ بینک لیتا ہے، اس لئے ان گروپوں کو سٹیٹ بینک کی سہولتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ لانگ ٹرم فنانس کے تحت 25ارب روپے کی گنجائش جبکہ ایکسپورٹ فنانس کیلئے بھی 31 دسمبرتک 25ارب روپے کی گنجائش موجود ہے ۔ تاہم آئندہ چھ ماہ کی مدت کیلئے سٹیٹ بینک قرضوں کی نئی لمٹ جاری کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نالج مینجمنٹ سسٹم بھی نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت قرض کے درخواست کنندگان اپنی درخواست کی آن لائن ٹریکنگ کر سکیں گے۔ قبل ازیں صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کا تعارف پیش کیا اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوںنے بتایا کہ اس عرصہ کے دوران ڈالر کی قدر میں دس روپے کی کمی ہوئی ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ میں بھی 11000پوائنٹ کا اضافہ ہوا۔ انہوںنے بتایا کہ اس عرصہ میں 19.2ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں جبکہ برآمدات 9.9ارب ڈالر کی ہوئیں۔ اگر اس دوران 9ارب کی غیر ملکی زرمبادلہ کی ترسیلات کو بھی شامل کر لیا جائے تو خسارہ صرف 0.6 فیصد کا رہ جاتا ہے جو اس حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ جبکہ میاں جاوید اقبال اور صدر رانا محمد سکندر اعظم نے گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔









