معاشی بہتری، روزگار کے مواقع، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ مشترکہ ذمہ داری ہے، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اور دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشی بہتری، روزگار کے مواقع، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج میکرو سطح پر معیشت مستحکم ہے،وفاق نے ہر معاملے پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ صوبوں سے مشاورت کی ہے،ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے ہیں،زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اور دفاع کے لیے وسائل کی …

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشی بہتری، روزگار کے مواقع، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج میکرو سطح پر معیشت مستحکم ہے،وفاق نے ہر معاملے پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ صوبوں سے مشاورت کی ہے،ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے ہیں،زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اور دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی اور اسے مضبوط بنانا ہماری ترجیح ہے،تیل کی قیمتوں کی مد میں عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا،باہمی اتحاد اور اتفاق سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے اجلاس میں سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہیں، اللہ تعالی انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم این ای سی کے فورم پر جمع ہیں، تمام صوبائی وزراء اعلیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس سارے عرصے میں ہر موقع پر مشاورت اور معاونت کی جبکہ وفاق نے انتہائی خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ صوبوں کے ساتھ ہر معاملے پر مشاورت کی اور قومی مفاد میں بہترین فیصلے کیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری معیشت اس کے باوجود کہ بڑے بڑے چیلنجز کا ہمیں سامنا کرنا پڑا، میکرو سطح پر مستحکم ہے لیکن اب شرح نمو میں اضافہ انتہائی اہم مرحلہ ہے،روزگار کے مواقع، پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافے اور اقتصادی سرگرمیوں کا فروغ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشکلات کے باوجود کوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہیں،حالیہ بحران کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی تھیں، یہ ایک بہت بڑاچیلنج تھا،وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر اس مشکل صورتحال کو ٹالا نہیں جا سکتا تھا، اس حوالے سے بھی وزراء اعلیٰ کا دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں کہ انہوں نے بھرپور تعاون کیا، تیل کی قیمتوں کی مد میں 128 ارب روپے وفاق نے اپنے انتہائی محدود وسائل سے خرچ کئے، دنیا کے کئی ممالک میں پٹرول پمپوں پر لائنیں دیکھنے میں آئیں لیکن بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں عوام کو پٹرول دستیاب رہا ،ہم نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہرممکن کوشش کی، یہ سب چاروں صوبوں اور وفاق کی باہمی یگانگت،ہم آہنگی اور ٹیم ورک کا نتیجہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے پچھلے کئی ہفتوں سے صوبوں کے ساتھ بھرپور مشاورت جاری تھی، صوبوں کے ساتھ مزید وسائل پیدا کرنے کے حوالے سے مشاورت ہوئی،زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اور دفاع کے لیے وسائل کی فراہمی اور اسے مضبوط بنانا ہماری ترجیح ہے،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے، خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، مائیں، بہنیں اور جوان بیٹے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکار اور ہماری مسلح افواج کے جوان اور افسر دن رات قربانیاں دے رہے ہیں،اتحاد اور اتفاق سے دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے اور اس کا مکمل صفایا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میکرو سطح پر معیشت مستحکم ہے لیکن عام آدمی کو روزگار کے مواقع، زرعی و صنعتی ترقی سے دلچسپی ہے کہ ہم مختلف شعبوں میں لوگوں کو کیا ریلیف دے سکتے ہیں، اس کے لیے وسائل درکار ہیں، شرح نمو و برآمدات میں اضافے کے لئے مراعات دینا ہوں گی، آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر سے میری بات ہوئی ہے، انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا ہے۔

وزیراعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری،مسلم لیگ ن کے سربراہ محمد نواز شریف ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا مشاورتی عمل میں بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔