وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نےکہا ہے کہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا جبکہ صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح موقف اختیار کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا جو …
نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا ،وزیراعلی خیبرپختونخوا

مزید خبریں
پشاور۔ 10 جون (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نےکہا ہے کہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا جبکہ صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح موقف اختیار کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا جو خیبر پختونخوا کے عوام خصوصاً ضم شدہ علاقوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام (اے آئی پی) میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے تاہم صوبائی حکومت نے مزید بہتری کے لیے بھی بھرپور مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقیاتی ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔ وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 151 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے، پاسکو کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبر پختونخوا کو فراہم کی جائے گی اور وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور پانچ اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور سپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلیشن صوبے اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائے جائیں گے، این ای سی و این ایف سی اجلاسوں میں شرکت صوبے کے حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم، صحت اور امن و امان صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں جبکہ احساس پروگرام، شیلٹر ہومز، زمنگ کور اور کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے فلاحی منصوبے بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کے ذریعےصوبے کے ہر شہری کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کے مجموعی جنگلات میں تقریباً 45 فیصد حصہ ڈال رہا ہے، صوبے کے کل رقبے کا 26.7 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے مزید فروغ کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا اور نجی اراضی پر اگائے گئے درختوں کو کاٹنے کے بجائے صوبائی حکومت خود خریدے گی اور مالکان کو ادائیگی کرے گی تاکہ شجرکاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنجر اراضی پر شجرکاری کرنے والے افراد کو حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ صوبے میں جنگلات کے رقبے میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
ِ








