اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ایچ آر ڈی زلفی بخاری نے ای او بی آئی پنشنرز کی سالانہ رقم میں 30 فیصد اضافے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 2020 سے لاگو ہوگا۔ یہ اعلان انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں آئی ایٹ سیکٹر کے کمرشل اینڈ کارپوریٹ کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ افتتاحی تقریب سے …
معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا ای او بی آئی پنشنرز کی سالانہ رقم میں 30 فیصد اضافے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ایچ آر ڈی زلفی بخاری نے ای او بی آئی پنشنرز کی سالانہ رقم میں 30 فیصد اضافے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 2020 سے لاگو ہوگا۔ یہ اعلان انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں آئی ایٹ سیکٹر کے کمرشل اینڈ کارپوریٹ کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ اضافے کے بعد یکم جنوری 2020 سے ای او بی آئی کے پنشنرز کو ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ پنشن کی مد میں ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اس اضافے سے متعلق سمری منظوری کیلئے اگلے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ای او بی آئی پنشن کو ملک کی کم سے کم اجرت کی شرح کے برابر لانا چاہتے ہیں، ہم اپنے عہد کے اختتام تک اس رقم کو 15000 روپے تک بڑھانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے پنشنرز کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوششوں میں صرف ڈیڑھ سال کے دورانیہ میں دو بار اضافہ کیا۔ حکومت نے پہلے ہی 2018 کے دوران ای او بی آئی کی کم سے کم پینشن 5 ہزار 250 روپے سے بڑھا کر 6500 روپے کردی تھی اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد ہی پینشن میں 62 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ان کی وزارت پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال کے اندر ہی ای او بی آئی کے چار میگا پروجیکٹس کو فروغ دینے میں کامیاب ہو گئی ہے اس کے علاوہ ان میں سے دو پر تعمیراتی کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن ٹاور اور سنی پکس اینڈ کمرشل کمپلیکس سمیت دو منصوبوں کو ای او بی آئی کے پنشنرز کو اضافی محصولات پیدا کرنے کے لیے فروری 2020 تک کرائے پر دے دیا جائے گا۔زلفی بخاری نے کہا کہ اربوں روپے مالیت کے 18 منصوبے قانونی چارہ جوئی کا شکار ہیں۔ ان قانونی امور کو جلد حل کر لیا جائے گا تاکہ حکومت پینشن کی رقم کو پندرہ ہزار روپے ماہانہ تک بڑھا سکے۔ اس وقت لگ بھگ 60 ملین باضابطہ اور غیر رسمی مزدوروں مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے جن میں فیکٹریاں، فیلڈ، ورکشاپ، میڈیا اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ 15 ملین میں سے صرف آٹھ ملین باضابطہ مزدور ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں غیر رسمی افرادی قوت کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے عوام کی رقم لوٹنے والے افراد کی تقرریاں کر کے ادارے کو تباہ کر دیا تھا۔ ای او بی آئی کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے اور تین ماہ میں مکمل کر دیا جائے گا جس سے اس کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ سنی پلیکس اور کمرشل کمپلیکس منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے ای او بی آئی کے چیئرمین اظہر حمید نے کہا کہ یہ منصوبہ کئی سال قبل تین ارب روپے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا اور کچھ وجوہات کی بنا پر مقررہ مدت میں مکمل نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے اس منصوبے کو تین ارب روپے کی مختص لاگت میں مکمل کرنے کا عزم کیا۔ چیئرمین نے کہا کہ مزید دو میگا پروجیکٹس کی تعمیر کا کام فروری 2020 تک شروع کر دیا جائے گا اور ان کی تکمیل کے بعد اسی سال یہ لیز پر بھی دے دیئے جائیں گے۔انہوں نے ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ایمپلائز پر زور دیا کہ وہ اپنے پینشن فنڈ میں اضافہ کریں تاکہ پنشنرز کو ریلیف دیا جاسکے۔








