سیالکوٹ۔17دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے نئے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل غربت سروے کے تحت ، پاکستان کے سب سے صنعتی شہر سیالکوٹ میں احساس ڈیجیٹل غربت سروے کا افتتاح کیا۔ احساس سروے جون 2021 سے پہلے ملک بھر میں مکمل کیا جائے گا، احساس پروگرامز سے 70لاکھ گھرانے مستفید ہونگے۔احساس غربت سروے کوپہلے ہی کے پی …
معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سیالکوٹ میں احساس ڈیجیٹل غربت سروے کا افتتاح کیا،

مزید خبریں
سیالکوٹ۔17دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے نئے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل غربت سروے کے تحت ، پاکستان کے سب سے صنعتی شہر سیالکوٹ میں احساس ڈیجیٹل غربت سروے کا افتتاح کیا۔ احساس سروے جون 2021 سے پہلے ملک بھر میں مکمل کیا جائے گا، احساس پروگرامز سے 70لاکھ گھرانے مستفید ہونگے۔احساس غربت سروے کوپہلے ہی کے پی اور ملک کے دیگر علاقوں میں موثر طریقے سے سرانجام دیا گیا ہے اور اسے اب سیالکوٹ میں بھی لانچ کیا جارہا ہے۔ نیا ماڈل احساس پروگرام کی تکنیکی ٹیم کی نگرانی میں پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے سیالکوٹ میں مکمل کیاجارہا ہے۔ یہ بات انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ نیا سروے سیالکوٹ کے تمام علاقوں میں شروع کیا جارہا ہے۔فیلڈ ٹیمیں دروازہ گھرگھر جاکر ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے سیالکوٹ کی تمام تحصیلوں بشمول پسرور ، ڈسکہ اور سمبڑیال میں ڈیٹا اکٹھا کریں گی۔ڈیٹااکٹھا کرنے کے لئے اینڈرائڈ پر مبنی ٹیبلٹ ایپلی کیشن کا استعمال کیا گیا ہے، گھروں سے اکٹھا کیا گیا ڈیٹا ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعہ مرکزی ڈیٹا بیس کو منتقل ہو جائے گا جس سے مستحق گھرانوں کی شناخت مکمل ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ڈور ٹو ڈورسروے میں اس پروگرام میں ڈیٹا کو محفوظ بنایا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے ، صوبائی اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے تقریبا 3500 اساتذہ کی خدمات لی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سروے میں ہر مستحق خاندان کے افراد کی تعداد اور ان کی معاشی حالت کا کمپیوٹرائزڈ کوالٹی ڈیٹا تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موجود ہ سروے کا مقصد مستحقین کی نشاندہی ہے۔سماجی تحفظ کیلئے سروے کو اقرباءپروری اور بدعنوانی سے پاک رکھنے کیلئے پرپز بیس ٹیبلٹ استعمال کیا جارہا ہے جس میں ڈیٹا کو ہر گز مس یوز نہیں ہونے دیاجائے گا اور آخر میں رہ جانےوالے گھرانوں کو رجسٹرڈ کرنے کیلئے ضلعی سطح پر ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے احساس پروگرام کی افادیت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ احساس پروگرام سماجی تحفظ کا جامع پروگرام ہے اس پروگرام کے تحت احساس کفالت, احساس وسیلہ تعلیم پروگرام, ایمرجنسی کیش پروگرام, ماں بچے کی غذائیت پروگرام,احساس انڈر گرایجویٹ سکالر شپ پروگرام, احساس آمدن, احساس بلا سود قرضہ, دارالاحساس اور دارالامان پروگرامز جیسے سماجی تحفظ کے پروگرام جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان پروگرامز کیلئے مستحقین کی نشاندہی کیلئے احساس سروے کیا جارہا ہے۔جنوری میں یہ سروے مکمل کر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے پسماندہ 80اضلاع میں سروے مکمل ہوچکا ہے اورسروے مرحلہ وار 30جون2021تک مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرامز سے 70لاکھ گھرانے مستفید ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو سروے کئے گئے وہ پیپرز بیس تھے اس لئے اقرباءپروری اور بدعنوانی سامنے آئی پرانے ڈیٹا میں سرکاری ملازمین, عمرے کرنے والے, گاڑیوں اور جائیدادوں کے مالکان بھی شامل تھے جنہیں ایف بی آر کی مدد سے نکالا گیا۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرامز میں خصوصی افراد کے حامل گھرانوں کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے۔حکومت خصوصی افراد کی بھر پور معاونت کرے گی۔بعد ازاں ڈاکٹر ثانیہ نشترنے ڈیجیٹل سروے کے ذریعے درج ہونے والے ایک مقامی گھر کا دورہ کیا۔ انہوں نے کمپیوٹر ائزڈ سروے کے عمل کابھی جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے سروے شدہ گھروں اور سروے ٹیم کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا اور ان سے مسائل بھی دریافت کیے۔








