معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر طفر مرزا کی ٹائیگر فورس پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر طفر مرزا نے کہا ہے کہ ٹائیگر فورس میں طب کے شعبہ سے وابستہ رضاکاروں کی تعداد 17 ہزار ہے جن میں سے 1800 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ایس او پیز پر عملدرآمد کر سکیں، کورونا کتنے عرصہ رہے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں …

اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر طفر مرزا نے کہا ہے کہ ٹائیگر فورس میں طب کے شعبہ سے وابستہ رضاکاروں کی تعداد 17 ہزار ہے جن میں سے 1800 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ایس او پیز پر عملدرآمد کر سکیں، کورونا کتنے عرصہ رہے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو ٹائیگر فورس پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پرکیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس میں طب کے شعبہ سے وابستہ رضاکاروں کی تعداد 17 ہزار ہے جس میں سے 1800 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ایس او پیز پر عملدرآمد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی بھی ہمیشہ کے لئے نہیں چل سکتی۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کتنے عرصہ رہے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جب تک پوری قوم اکٹھی نیہں ہو گی وباءکا مقابلہ کا نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلہ میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں جو حکومت کے ساتھ مل کر جو ایس او پیز بنائے ہیں ان کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ جیسے جیسے ایس او پیز کا نفاذ بہتر طریقے سے ہوتا جائے گا اسی طرح ہم زیادہ سے زیادہ کاروبار کھول سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک پالیسی ہم نے ٹریسنگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کی شناخت کرنی ہے جن کو یہ بیماری ہے۔ اس کے لئے پہلے ان کو ٹریس کرنا ہوگا پھر ٹیسٹ کرنے ہوں گے اس کے بعد اگر ان میں وائرس موجود ہے تو ان کو قرنطینہ میں رکھنا ہے یا آئسولیٹ کرنا ہے۔ اس کام کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس فیلڈ فورس ہو جو ہماری ان چیزوں میں مدد کر سکے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم نے جو ٹائیگر فورس پروگرام متعارف کرایا ہے ۔ اس پروگرام میں 10 لاکھ رضاکاروں نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 ہزار افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے جن کا طب کے شعبہ سے تعلق ہے اور 1800 افراد ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ ان 17 ہزار لوگوں کو ہم نے ایک سوالنامہ بھیجا ہے۔ اس سوالنامہ میں ہم نے ان سے پوچھا ہے کہ آپ اپنے علاقے میں اپنی یونین کونسل میں بطور ایک طبی ماہر کیا خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے جواب بھی موصول ہوناشروع ہو گئے ہیں۔ 1800 ڈاکٹروں کی بڑی تعداد جو تجویز دی ہے کہ ڈیجیٹکل پاکستان کے ساتھ ملک کر ٹیلی ہیلتھ کا شعبہ بنایا چکے ہیں جس کے ذریعے ڈاکٹرز ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مختلف مشورے دے سکتے ہیں اور علاج معالجہ کے حوالے سے ان کی دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یہ رضاکار ہمارے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے ۔ ان کی مدد سے ہم اس حکمت عملی کا مو¿ثر طریقے سے نفاذ کر سکیں گے۔