اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ ملک میں درآمدی ایندھن کے ذریعے 41 فیصد بجلی کی پیداوار توانائی کے تحفظ اور سستی فراہمی کے لئے موزوں نہیں، ہمیں گردشی قرضے کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے سستی بجلی پیدا کرنا ہوگی، ترقی یافتہ ممالک بائیو ماس اور فضلے سے بھی سستی بجلی پیدا کر رہے ہیں، …
معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کا ”کلین فیولز، بائیو فیولز 2020ئ“ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ ملک میں درآمدی ایندھن کے ذریعے 41 فیصد بجلی کی پیداوار توانائی کے تحفظ اور سستی فراہمی کے لئے موزوں نہیں، ہمیں گردشی قرضے کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے سستی بجلی پیدا کرنا ہوگی، ترقی یافتہ ممالک بائیو ماس اور فضلے سے بھی سستی بجلی پیدا کر رہے ہیں، توانائی کے شعبے میں نجی شعبہ کی سہولت کے لئے بیورو کریسی کی کئی رکاوٹوں کا خاتمہ کر دیا ہے، بائیو فیول اگلے دس سال میں ملک میں ایندھن کی دستیابی کا مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں او جی ڈی سی ایل آڈیٹوریم میں ”کلین فیولز، بائیو فیولز 2020ئ“ کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ندیم بابر نے کہا کہ پاکستان کو ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے ایسے صاف بائیو ایندھن پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ملکی وسائل سے توانائی کی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ایندھن فطری لحاظ سے فائدہ مند ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے لیکن ہم نے اسے ماضی میں نظر انداز کئے رکھا لیکن اب آئندہ اس چیز کو روکنا ہوگا اور ملکی وسائل سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ندیم بابر نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبہ میں نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ مسابقت کے ماحول میں مساوی مواقع کے ذریعے توانائی کے شعبہ کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے حکومت نے توانائی کے شعبہ میں نجی شعبہ کی سہولت کے لئے بیورو کریسی کی کئی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا ہے اور ہم مہنگی بجلی پیدا کرنے کا پرانا رجحان تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں گردشی قرضے پر قابو پانے کے لئے سستی توانائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی 41 فیصد پیداوار کا انحصار درآمدی ایندھن پر ہے اور یہ ہماری توانائی کی سیکورٹی اور اس کی سستی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے فائدہ مند نہیں ہے، ہمیں سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے ملکی ذرائع سے استفادہ کرنا ہوگا۔








