حیدرآباد۔ 02 نومبر (اے پی پی):اسٹیٹ بینک آف پاکستان حیدرآباد کے چیف منیجر عدیل اقبال نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اور اکیڈمیا سے روابط بڑھا رہے ہیں، مشاورت سے معا شی ترقی پر کام کریں گے، معا شی استحکام کے لئے در آمدات و بر آمدات میں توازن نا گزیر ہے، قومی ایشوز پر کام ہو رہا ہے، ہمیں بحیثیت قوم سپو رٹ کرنا چاہئے، ایس بی پی سولر …
معا شی استحکام کے لئے در آمدات و بر آمدات میں توازن نا گزیر ہے،عدیل اقبال
حیدرآباد۔ 02 نومبر (اے پی پی):اسٹیٹ بینک آف پاکستان حیدرآباد کے چیف منیجر عدیل اقبال نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اور اکیڈمیا سے روابط بڑھا رہے ہیں، مشاورت سے معا شی ترقی پر کام کریں گے، معا شی استحکام کے لئے در آمدات و بر آمدات میں توازن نا گزیر ہے، قومی ایشوز پر کام ہو رہا ہے،
ہمیں بحیثیت قوم سپو رٹ کرنا چاہئے، ایس بی پی سولر انرجی میں سبسڈی دے رہا ہے، کامیاب جوان روزگار اسکیم کے تحت قرضے جا ری کئے جا رہے ہیں، انڈیا اور بنگلہ دیش میں خواتین معا شی ترقی حصہ لے رہی ہیں، پاکستان میں بھی خواتین کے بہتر مستقبل اور کاروبا ری ترقی کے لئے کاروبا ری لون کی حد پچاس لاکھ تک بڑھا دی گئی ہے، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں میں خواتین کے لئے علیحدہ ڈیسک بنائی گئی ہیں،
کمر شل بینک خواتین کو پانچ فیصد مارک اپ پر قرضے مہیا کر رہے ہیں، گلاس بینگلز انڈسٹریز ایشوز مل کر حل کرنے کی کوشش کریں گے، چیف مینیجر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ شاپ کیپرز،آن لائن بزنس،ایگریکلچر اور کاروباری خواتین اپنی ایپ بنائیں، ہمیں ڈیجیٹلائزڈ معیشت کی طرف آنا ہے، تاجر برادری کمرشل بینکوں کی شکایات کے حوالے سے کنزیومر پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ سے رجوع کریں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس میں تاجروں و صنعتکا روں سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے تاجروں اور صنعتکا روں کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو میں کہا کہ تاجر برادری اور بینکرز کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان جو کہ بینکنگ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرتا ہے، پچھلے ادوار میں ایل سی پر قدغن لگی تھی تو پاکستان میں قحط سالی کا ماحول بن گیا تھا، جنرل انڈسٹری کی پیداوار کا نوے فیصد انحصار در آمدات پر ہے،
ملک بھر کے چیمبر آف کامرس کی مشاورت سے فیصلے کئے جانے چاہئیں، ایس بی پی جلدی میں فیصلے نہ کرے ، معا شی حالات بہتری کی سمت بڑھ رہے ہیں ،حالیہ گیس کے نرخوں میں اضافے سے حیدرآباد کی مشہور چوڑی کی صنعت تباہ ہو جائے گی ،اس سے چار لاکھ سے زائد خواتین اور مرد ورکرز کا روزگار وابستہ ہے، چو ڑی کی صنعت کو تباہی سے بچایا جائے۔
صدر عدیل صدیقی نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں کاروباری خواتین اچھے آئیڈیا رکھتی ہیں اور بہت پوٹینشل ہیں مگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے معا شی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پا رہیں، ان میں بہترین تعلیم یافتہ اور ہنر مند خواتین شامل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو ترجیحی بنیا دوں پر قرضوں کی سہولت دی جائے، تاجر برادری کو مارکیٹوں میں بینک برانچز نہ ہونے کی وجہ سے سرمائے کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہما ری گذارش ہے کہ آئرن اینڈ اسٹیل اور فرو ٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ میں فو ری طو رپر بینک برانچز قائم کی جائیں، تاجروں نے چیف منیجر ایس بی پی کی توجہ دلا تے ہوئے کہا کہ مارک اپ ریٹ زیا دہ ہے جس کی وجہ سے چلتی انڈسٹری بند ہو رہی ہیں، مارک اپ کم ہونا چاہئے، کمرشل بینکوں کے اسٹاف کو ضابطہ اخلاق کا پابند کرنا چاہئے، لیٹر آف کریڈٹ میں تاخیر سے تاجر برادری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بینک چھو ٹے نو ٹ جمع نہیں کرتے اور خستہ نو ٹوں کی تبدیلی کے لئے بھی تاجر مارے مارے پھرتے ہیں، تاجر برادری اور عوام کو یو ٹیلیٹی بل کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،
یہ ایسے مسائل ہیں جن کو فو ری حل کرنے کی ضرورت ہے ۔حیدرآباد چیمبر کے سینئر نائب صدر نجم الدین قریشی نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایس ایم ایز اور خواتین کے لئے آسان اور نئی اسکیمیں متعارف کرائے گا، اس سے ایس ایم ایز سیکٹر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ،اجلاس میں ایس بی پی کے ڈپٹی چیف مینیجر محمد اظہار انصا ری، اسسٹنٹ چیف منیجر غلام علی شاہ، حیدرآباد چیمبر کے سینئر نائب صدر نجم الدین قریشی، نائب صدر اویس خان اور نے ساتھیوں کے ہمراہ شرکت کی۔









