معطل سرکاری ملازم مکمل تنخواہ اور مراعات کا حق دار قرار، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیل مسترد کر دی

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ معطلی برطرفی یا ملازمت کے خاتمے کے مترادف نہیں اس لیے معطل سرکاری ملازم معطلی کے عرصے میں مکمل تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر سروس مراعات کا حق دار ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے اس معاملے میں وفاقی ادارے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹربیونل …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ معطلی برطرفی یا ملازمت کے خاتمے کے مترادف نہیں اس لیے معطل سرکاری ملازم معطلی کے عرصے میں مکمل تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر سروس مراعات کا حق دار ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے اس معاملے میں وفاقی ادارے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یہ فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن نمبر 4753 آف 2025 کی سماعت کے بعد جاری کیا جسے رپورٹ کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔مقدمہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جس میں فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد کے 2 ستمبر 2025 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ٹربیونل نے محکمانہ حکم میں ترمیم کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ معطل ملازم کو بنیادی قاعدہ 53 کے تحت مکمل تنخواہ اور الاؤنسز دیے جائیں اور معطلی کے دوران ادا کی گئی رقوم کی کوئی وصولی قانوناً نہیں کی جا سکتی جب تک معطلی کا حکم واپس نہ لیا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق جواب دہندہ نمبر ایک، جو سینئر کلرک/انسپکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، طویل علالت کے باعث 31 سال سے زائد قابلِ شمار سروس مکمل کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے خواہش مند تھے تاہم محکمہ نے ان کی درخواست پر غور نہیں کیا۔ بعد ازاں محکمانہ ہدایات پر وہ میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہوئے جس نے انہیں متعدد بیماریوں میں مبتلا قرار دے کر مزید سروس کے لیے نااہل قرار دیا۔ اس کے بعد 12 جولائی 2024 کو انہیں جبری ریٹائر کر دیا گیاجبکہ معطلی کے عرصے کو بغیر تنخواہ غیر معمولی رخصت قرار دیتے ہوئے اس دوران دی گئی تنخواہ و مراعات کی وصولی کا حکم بھی جاری کیا گیا۔

متاثرہ ملازم کی محکمانہ اپیل پر فیصلہ نہ ہونے پر انہوں نے فیڈرل سروس ٹربیونل سے رجوع کیا، جس نے ان کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ بنیادی قاعدہ 53(ب) کے تحت معطل ملازم مکمل تنخواہ اور مراعات کا حق دار ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ معطلی ایک عبوری اقدام ہے جس سے ملازمت کا معاہدہ ختم نہیں ہوتا بلکہ صرف فرائض کی ادائیگی عارضی طور پر روکی جاتی ہے۔ جب تک ملازمت کا معاہدہ برقرار ہے، اس سے پیدا ہونے والے حقوق بھی برقرار رہتے ہیں، جن میں مکمل تنخواہ کا حق شامل ہے۔

عدالت نے کہا کہ کسی واضح قانونی جواز کے بغیر تنخواہ روکنا یا وصولی کرنا قانون اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔فیصلے میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدوں کی پاسداری، جائز کمائی کی حفاظت اور بروقت اجرت کی ادائیگی اسلامی اصولوں کا حصہ ہے، اور بغیر ثابت شدہ قصور کے مالی محرومی دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹربیونل کا فیصلہ درست اور قانون کے مطابق ہے، اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا اپیل مسترد کی جاتی ہے۔ اخراجات سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔