مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر ذمہ داراسرائیلی حکام کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے، ہیومن رائٹس واچ

لندن۔20نومبر (اے پی پی):حقو ق انسانی کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں سے فلسطینیوں کی بے دخلی جنگی جرائم کے مترادف ہے اور اس پر ذمہ دار اعلیٰ حکام کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی طرف سے "آل مائی ڈریمز ہیو ایریزڈ" کے …

لندن۔20نومبر (اے پی پی):حقو ق انسانی کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں سے فلسطینیوں کی بے دخلی جنگی جرائم کے مترادف ہے اور اس پر ذمہ دار اعلیٰ حکام کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی طرف سے "آل مائی ڈریمز ہیو ایریزڈ” کے عنوان سے جاری 105 صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 2025 کے اوائل میں مغربی کنارے کے تین پناہ گزین کیمپوں سے ہزاروں فلسطینیوں کو بے دخل کرنا جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔ رپورٹ میں اسرائیلی حکام کو ان جرائم پر جوابدہ ٹھہرانے اور مزید زیادتیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

رائٹرز کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے جنوری اور فروری میں "آپریشن آئرن وال”کے دوران جنین، تلکرم اور نور شمس کیمپوں کے تقریباً 32,000 رہائشیوں کو زبردستی بے گھر کیا تھا اور بے گھر ہونے والوں کو واپس آنے سے روک دیا گیا ہے، اور ان کے سیکڑوں گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے ۔رپورٹ پر کام کرنے والی ہیومن رائٹس واچ کی ایک محقق میلینا انصاری نے بتایا کہ بے گھر ہونے کے دس ماہ بعد بھی خاندان کے رہائشیوں میں سے کوئی بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکا ۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اس نے تین کیمپوں سے بے گھر ہونے والے 31 فلسطینیوں کا انٹرویو کیا اور سیٹلائٹ کی تصاویر، مسماری کے احکامات اور تصدیق شدہ وڈیوز کا تجزیہ کیا۔انہوں نے 850 سے زیادہ عمارتوں کو تباہ شدہ یا بھاری نقصان زدہ پایا، جب کہ اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق یہ تعداد 1,460 ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے 1950 کی دہائی میں قائم کیے گئے ان کیمپوں میں فلسطینی مہاجرین کئی نسلوں مقیم تھے۔اسرائیلی فوج نے رہائشی عمارتوں کی بڑے پیمانے پر تباہی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ایسا فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے ان عمارتوں کے ڈھانچوں کو استعامل کرنے کے خدشات ختم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ ان علاقوں کے مکین کب واپس آسکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں سے فلسطینیوں کی بے دخلی کو نسلی تطہیر قرار دیا۔ہیومن رائٹس واچ نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حکام اور فوجی کمانڈروں پر ٹارگیٹڈ پابندیاں عائد کریں، ہتھیاروں کی فروخت اور تجارتی فوائد کو معطل کریں، آبادکاری کے سامان پر پابندی لگائیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ نافذ کریں۔جنیوا کنونشنز کے تحت وقتی طور پر ضروری فوجی وجوہات یا ان کی حفاظت کے سوا مقبوضہ علاقے سے شہریوں کی نقل مکانی پر پابندی عائد ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ بے دخلی، اس وقت کی گئی جب عالمی توجہ غزہ پر مرکوز تھی، یہ نسل پرستی اور ظلم و ستم کے انسانیت کے خلاف جرائم کا حصہ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ ذمہ دار اعلیٰ حکام کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مہاجر کیمپوں میں مقیم فلسطینیوں کے گھروں پر دھاوا بولا، املاک کی توڑ پھوڑ کی اور پورے پورے خاندانوں کو ڈرون پر نصب لاؤڈ سپیکر کے ذریعے گھروں سے باہر جانے کا حکم دیا اور اس دوران ان کو کوئی پناہ گاہ یا امداد کی پیشکش نہیں کی اور ان کو رشتے داروں کے گھروں میں جانے یا مساجد، سکولوں اور خیراتی اداروں میں پناہ لینے کے لئے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا۔جنین پناہ گزین کیمپ سے نکالے گئے ہشام ابو تبیخ نے کہا کہ جب انہیں ان کے گھر سے نکالا گیا تو ان کا خاندان اپنے ساتھ کچھ لے جانے کے قابل نہیں تھا۔ تبیخ نے بتایا کہ ہم نہ کھانے، نہ پینے، نہ دوائی، نہ اخراجات کے بارے میں بات کر رہے ہیں… ہم بہت مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ جواب میں، اسرائیلی حکام نے لکھا تھا کہ اس آپریشن کا ہدف "دہشت گرد عناصر”تھے لیکن انہوں نے بڑے پیمانے پر بے دخلی یا واپسی پر پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں حملوں کے بعد سے، اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں تقریباً 1,000 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے، بغیر کسی مقدمے کے حراست میں توسیع کی ہے، مکانات کو مسمار کیا ہے اور بستیوں کی عمارتوں میں تیزی لائی ہے، جب کہ آباد کاروں پر تشدد اور حراست میں لیے گئے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ، آبادکاروں نے اس ماہ 264 حملے کیے جو 2006 میں اقوام متحدہ کے حکام کی جانب سے ایسے واقعات کا سراغ لگانے کے بعد سے کسی ایک ماہ کے دوران حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، اور اس کا کہنا ہے کہ یہ قبضہ اسے تزویراتی گہرائی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ عالمی برادری بین الاقوامی قانون کے تحت مغربی کنارے میں قائم تمام یہودی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتی ہے۔ اسرائیل نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارہ "مقبوضہ” علاقے کے بجائے "متنازعہ” ہے۔

مزید خبریں