ماسکو ۔27ستمبر (اے پی پی):سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے کہاکہ نیٹو دوسری جنگ عظیم سے بڑی جنگ کا باعث بنے گا جس کا نتیجہ انسانیت کے لئے دوسری جنگ عظیم سے بھی بڑی تباہی ہوگا۔ روسی خبررساں ادارے کے مطابق سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے منگل کو ٹیلی گرام پوسٹ میں خبردار کیا کہ مغرب یوکرین کو بھاری ہتھیار فراہم کرکےنازی ازم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو …
مغرب دنیا کو دوسری جنگ عظیم سے سب سے بھی بڑی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، سابق روسی صدر

مزید خبریں
ماسکو ۔27ستمبر (اے پی پی):سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے کہاکہ نیٹو دوسری جنگ عظیم سے بڑی جنگ کا باعث بنے گا جس کا نتیجہ انسانیت کے لئے دوسری جنگ عظیم سے بھی بڑی تباہی ہوگا۔ روسی خبررساں ادارے کے مطابق سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے منگل کو ٹیلی گرام پوسٹ میں خبردار کیا کہ مغرب یوکرین کو بھاری ہتھیار فراہم کرکےنازی ازم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو دوسری جنگ عظیم سے سب سے بھی بڑی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
دمتری میدویدیف جو اس وقت روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین ہیں نے امریکا کی طرف سے یوکرین کو ابرامز ٹینکوں کی فراہمی ، امریکا کی طرف سے یوکرین کو نسبتاً طویل مدت تک مار کرنے والے ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (اے ٹی اے سی ایم ایس) کی فراہمی کے مبینہ وعدےپر کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ روس کے پاس نیٹو کے ساتھ براہ راست تصادم کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔
انہوں نے کینیڈا کی پارلیمنٹ میں سابق نازی فوجی جنہوں نے جرمن آمر ایڈولف ہٹلر کے زیر کمان فوجی یونٹوں میں خدمات سرانجا م دیں تھیں، کو خراج تحسین پیش کئے جانے دعویٰ کیا کہ نیٹو ہٹلر کے محوری طاقتوں کے اتحاد کی طرح کھلے عام فاشسٹ بلاک میں تبدیل ہو گیا ہے جس میں اور ہٹلر کے اتحاد میں واحد فرق یہ ہے کہ یہ اتحاد ماضی کے اتحاد سے زیادہ بڑا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر روس نیٹو کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کا تنازعہ انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اس کا نتیجہ انسانیت کے لیے 1945 کے مقابلے میں بہت زیادہ نقصان ہوگا۔واضح رہے کہ سابق روسی صدر اور روسی حکومت متعدد بار یوکرین کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی پر روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرےسے خبر دار کرچکےہی۔








