اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کے محاصرے کے ساتھ بھارت کا انتہا پسند ہندوتوا نظریہ خطہ اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے‘ یہ نہ صرف پاکستان، پڑوسی ممالک بلکہ بھارتی اقلیتوں اور عالمی امن کیلئے بھی خطرے کا باعث ہوگا‘ کشمیر پر دنیا کی خاموشی تجارتی مفادات کے باعث ہے کیونکہ بھارت …
مقبوضہ جموں وکشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کے محاصرے کے ساتھ بھارت کا انتہا پسند ہندوتوا نظریہ خطہ اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے‘ وزیراعظم عمران خان کا جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کے محاصرے کے ساتھ بھارت کا انتہا پسند ہندوتوا نظریہ خطہ اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے‘ یہ نہ صرف پاکستان، پڑوسی ممالک بلکہ بھارتی اقلیتوں اور عالمی امن کیلئے بھی خطرے کا باعث ہوگا‘ کشمیر پر دنیا کی خاموشی تجارتی مفادات کے باعث ہے کیونکہ بھارت ایک بڑی منڈی ہے ۔ جمعرات کو جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے رہنما ہیں جو دنیا کو بھارت کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا کے انتہا پسند نظریہ کا غلبہ ہو چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہہندوتوا آر ایس ایس کا نظریہ ہے جو جرمنی کی نازی پارٹی سے متاثر تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک ارب 30 کروڑ آبادی کے ساتھ ایک ایٹمی ملک ہے جو انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے جس سے نہ صرف بھارت کے لوگوں کو مشکلات ہیں بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بھی مسائل کا شکار ہیں۔ عمران خان نے مودی حکومت کے شہریت سے متعلق نئے قانون کے بعد بھارت میں فسادات اور مظاہروں کی حالیہ صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 80 لاکھ سے زائد لوگ گزشتہ پانچ ماہ سے زائد عرصہ سے محاصرے کی حالت میں ہیںجس کی وجہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے اور اس کا عقیدہ یہ ہے کہ بھارت صرف ہندﺅں کا ہے اور اقلیتوںکا رتبہ کم تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں پاکستان کا کشمیر دیکھیں اور پھر بھارت کے زیر قبضہ کشمیر دیکھیں۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر پر دنیا کی خاموشی تجارتی مفادات کے باعث ہے کیونکہ بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور دوسرا وہ سمجھتے ہیں کہ مغربی سٹریٹجک ذہن یہ خیال کرتا ہے کہ بھارت چین کے ہم پلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے یہ ایک مکمل طور پر مختلف اپروچ ہے۔








