مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل کرفیو کے نفاذ باعث وہاں شدید انسانی بحران کی صورتحال ہے ڈاکٹر ملحیہ لودھی

اقوام متحدہ ۔ 31 اگست (اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل کرفیو کے نفاذ باعث وہاں شدید انسانی بحران کی صورتحال ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کئی عشروں سے حل طلب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی منظور کردہ ان قراردوں پر …

اقوام متحدہ ۔ 31 اگست (اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل کرفیو کے نفاذ باعث وہاں شدید انسانی بحران کی صورتحال ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ کئی عشروں سے حل طلب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی منظور کردہ ان قراردوں پر عمل درآمد کرائے جن میں کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے العریبیہ ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔انھوں نے کہا کہ پوری دنیا حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن جموں و کشمیر کے عوام بارے اس سے کیوں صرف نظر کیا جاتا ہے، کیاانھیںاس لیے نظراندازکیاجارہاہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ملیحہ لودھی نے کہاکہ بھارتی فوج نے 26 روز سے کشمیرکو کرفیو کے ذریعے دیگر دنیاسے جداکررکھاہے، یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اس سے قبل کے بہت دیر ہوجائے، ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر فلسطین کی طرح عالمی معاملہ ہے جو کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر بھی شامل ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، پندرہ رکنی سیکورٹی کونسل کو اس کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری فوری طور پر ادا کرنی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا ایک غیر قانونی اور ناجائز عمل ہے ، ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اسے عالمی مسئلہ قراردیا ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ گزشتہ 7 عشروں سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں فون لاینز منقطع ہیں ، انٹر نیٹ مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کے لوگ نماز جیسے لازمی فریضے کی ادائیگی کے لیے بھی گھروں سے نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں بھی دایمی کرفیو کا نفاد نہیں کیا جاسکتا ، جونہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھایا جائے گا عوامی غیض و غضب کا لاوا پھوٹ پڑے گا۔ ڈاکٹر ملحیہ لودھی نے کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیموں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگینخلاف ورزیوں پر رپورٹیں جاری کی ہیں جن میںاس سال جولائی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے جنیوا دفتر سے جاری ہونے والی رپورٹ بھی شامل ہے ۔

مزید خبریں