اقوام متحدہ۔17اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں کے باعث فلسطینی کسانوں کو زیتون کی فصل کے لیے بدترین خطرات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظراقوام متحدہ کے ایک درجن ماہرین نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ زیتون کی تیار فصل کاٹنے میں …
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کو بدترین خطرات کا سامنا ہے، ماہرین اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔17اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں کے باعث فلسطینی کسانوں کو زیتون کی فصل کے لیے بدترین خطرات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظراقوام متحدہ کے ایک درجن ماہرین نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ زیتون کی تیار فصل کاٹنے میں کسانوں کے لیے رکاوٹیں پیدا نہ کریں اور فصل کو خراب نہ کریں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس موقع پر یہ بھی سفارش کی کہ فلسطینیوں کو یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی فوجیوں کے تشدد آمیز رویے اور نقصان پہنچانے والی کارروائیوں سے بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان کے درمیان ایک بفر زون بنا دیں تاکہ فلسطینی اور ان کا جان و مال محفوظ ہو سکے۔ انہوں نے کہا ہے فلسطینی کسانوں کو زیتون کی فصل کاٹنے کے اس موقع پر غیرمعمولی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ صرف اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری نہیں ہے بلکہ یہودی آباد کار بھی اس میں اسرائیلی فوج کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین کے مطابق 2023 میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو جگہ جگہ سے رکاوٹوں اور یہودی آبادکاروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ واقعات مقبوضہ مغربی کنارے کے علاوہ مشرقی بیت المقدس اور جڑے ہوئے دیگر علاقوں میں بھی دیکھنے میں آئے تھے اور بہت وسیع پیمانے پر تشدد کی کارروائیاں فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھیں۔ یہودی آبادکاروں نے گزشتہ سال فلسطینی کسانوں پر حملے کیے، فصلوں کو آگ لگائی، ان کی بھیڑ بکریاں چوری کر لی گئیں حتیٰ کہ ان کی زرعی زمین اور چراگاہوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
اسی طرح گزشتہ سال بہت سے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر لیا گیا۔ قبضہ کرنے کی یہ مثال پچھلے 30 برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ رواں سال کے دوران خرابی کے یہ معاملات پچھلے سال کے مقابلے میں بھی زیادہ خوفناک صورت اختیار کر گئے ہیں۔ خیال رہے کہ زیتون کی کاشت فلسطینی کسانوں کے لیے زرعی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتی ہے۔
ان کی زندگی کی گزر بسر میں زیتون کی فصل کا بڑا گہرا دخل ہوتا ہے لیکن انہیں ان کے حق سے زبردستی محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیتون کی فصل کو تباہ کرنے کی خاطر پانی کی سپلائی روک دی جاتی ہے اور اگر فصل تیار ہو تو اسے جلا دیا جاتا ہے۔ 2023 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں کی 24 ہزار ایکڑ پر پھیلی فصل کو کاٹنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس نقصان کی مالیت 10 ملین ڈالر کے برابر تھی۔








