مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے رواں سال جنوری میں حملے کر کے 700 فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے 2026 کے پہلے مہینے جنوری میں حملے کر کے 700 فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا۔ العربیہ ارود کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے گزشتہ روز مغربی کنارے کے مظلوم فلسطینیوں کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتائی …

اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے 2026 کے پہلے مہینے جنوری میں حملے کر کے 700 فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا۔ العربیہ ارود کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے گزشتہ روز مغربی کنارے کے مظلوم فلسطینیوں کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتائی ۔ ادارے نے کہا کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک کسی ایک مہینے میں فلسطینی شہریوں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ان کے گھروں سے بے گھر کرنے کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے بتایا کہ ایک ماہ میں 694 فلسطینیوں کو جبری طور پر ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے پاس بھی موجود ہیں اور وہ بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے جنوری کے آخر میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملے اسرائیل کا یہ بڑا ہتھیار بن چکے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو مغربی کنارے سے نقل مکانی پر مجبور کر سکیں۔ جنوری میں نقل مکانی پر مجبور کی گئی تعداد خاص طور پر زیادہ ہے اور اس میں وادی اردن، راس عین الاوجا کے لوگ زیادہ ہیں جہاں سے 130 خاندانوں کو خوفزدہ کر کے نکالا گیا ہے۔

او سی ایچ اے کے مطابق مغربی کنارے میں جنوری کے دوران 182 فلسطینیوں کے گھر تباہ کیے گئے ہیں جن میں مشرقی بیت المقدس میں تباہ کیے گئے گھر بھی شامل ہیں۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بے بسی کو مانیٹر کرنے کے لئے کام کرنے والی این جی اوز کے گروپ ’’ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم‘‘ کی ڈائریکٹر الیگرا پیچھیو نے کہا ہے کہ کوئی بھی فلسطینیوں کے حق میں اسرائیل پر دباؤ نہیں ڈال رہا کہ اسرائیلی حکام یہودی آباد کاروں کو ان حملوں سے روکیں۔ انہیں مکمل طور پر اس سلسلے میں استثنا حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں حملے کریں اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے باہر نکالیں۔

یہودی آباد کار یہ حملے اسرائیلی حکام کی مکمل سرپرستی میں کرتے ہیں، شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں دیتے ہیں اور ان کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مغربی کنارے پر بیرونی دنیا کی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ حملے مسلسل جاری رہتے ہیں کیونکہ سب لوگوں کی توجہ غزہ پر مرکوز ہے اور انہیں اندازہ نہیں ہو رہا کہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل نے کیا سلوک روا رکھا ہے۔ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کو بے گھر کر کے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔ ان کے رہائشی مکانات اور زرعی ڈھانچے تک تباہ کر دیئے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں یہودیوں کو آباد کرنے کا آغاز 1967 سے کیا تھا۔ بین الاقوامی ادارے اور اقوام متحدہ ان یہودی آباد کاروں کے لیے قائم کی گئی بستیوں کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیتے ہیں، تاہم اسرائیل ان یہودی بستیوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ مغربی کنارے میں اسرائیل نے اب تک 5 لاکھ سے زائد یہودیوں کو آباد کیا ہے اور یہ یہودی بستیوں اور یہودی آؤٹ پوسٹس میں رہائش پذیر ہیں جبکہ 30 لاکھ فلسطینی مغربی کنارے میں رہتے ہیں۔