مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی محاصرہ اور پابندیاں مسلسل 124 ویں روز بھی جاری ، غیریقینی صورتحال برقرار

سرینگر۔ 06دسمبر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو مسلسل124ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ اور سخت پابندیا ں بر قرار رہیں جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول بدستور قائم اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ چپے چپے پر لاکھوں بھارتی فوجی تعینات ہیں جبکہ انٹرنیٹ …

سرینگر۔ 06دسمبر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو مسلسل124ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ اور سخت پابندیا ں بر قرار رہیں جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول بدستور قائم اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ چپے چپے پر لاکھوں بھارتی فوجی تعینات ہیں جبکہ انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل اور ایس ایم ایس سروسز بدستور معطل ہیں جس کے سبب معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں۔ دکانیں صرف صبح کے وقت چند گھنٹوں کیلئے کھولی جاتی ہیں تاکہ لوگ اشیائے ضروریہ خرید سکیں۔ سکول اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کم نظر آرہی ہے۔لوگ غیر قانونی بھارتی قبضے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 5 اگست کے بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدم کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کے لیے سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثناکشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز(کے سی سی آئی) کے صدر شیخ عاشق حسین نے سرینگر میں ایک انٹریومیںکہاکہ بھارت کی طرف سے رواں برس پانچ اگست سے مسلط کر دہ فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ کی بندش کے سبب مقبوضہ علاقے کی معیشت کو اب تک 15ہزار کروڑ کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو پہنچے والے نقصان کے حوالے سے یہ محض ایک ابتدائی جائزہ ہے جبکہ وہ نقصانات کے حوالے سے جامع اعداد و شمار ایک ہفتے کے اندر اندر سامنے لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے جاری محاصرے اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ہر تجارتی شعبہ متاثر ہواہے جبکہ دستکاری ، سیاحت ، آئی ٹی ، ای کامرس اور قالین بافی کی صنعتوں کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ شیخ عاشق حسین نے کہا کہ ہوٹلوں اور ریستوراںمیں کام کرنے والے 30ہزار سے زائد ملازمیں ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ ای کامرس جس کے ذریعے آن لائن خریداری کی جاتی ہے ، کے شعبے سے 10ہزار افراد ملازمت سے فارغ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹوںکا عملہ ، ہاوس بوٹ مالکان اور ٹرانسپورٹر بیکار بیٹھے رہتے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ کئی ایسے کاروبار ہیں جو کلی طور پر انٹرنیٹ پر منحصر ہیں لہذا انٹرنیٹ دستیاب نہ ہونے کی بناپر یہ سب کاروبار ٹھپ ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر میں صرف چند لاکھ لوگ سرکاری ملازمتیں کرتے ہیں جبکہ اکثر لوگ مختلف طرح کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور یہ سب اس وقت ایک انتہائی خراب دور سے گزر رہے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدر نے مزید کہا کہ کشمیر میں پانچ اگست کے بعد تجارتی برادری کے بہت سے ارکان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جنہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔ شیخ عاشق حسین نے کہا کہ جب لوگوں کو غیر یقینی صورتحال کا مسلسل سامنا ہو تو ایسی حالت میں کوئی ترقی یا کاروباری سرگرمی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے سی سی آئی جلد ایک جامع رپورٹ جاری کرے گی جس میں ہر شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کے علیحدہ علیحدہ اعداد وشمار پیش کیے جائیں گے۔

مزید خبریں