حکومت اور چیمبرز کو ٹیم بن کر ملکی معیشت کے لئے کام کرنا ہوگا، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ فیصل آباد پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، حکومت اور چیمبرز کو ایک ٹیم بن کر ملکی معیشت کے لئے کام کرنا ہوگا ۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر بزنس ایکسی لینس ایوارڈز کی تقریب سے …

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ فیصل آباد پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، حکومت اور چیمبرز کو ایک ٹیم بن کر ملکی معیشت کے لئے کام کرنا ہوگا ۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر بزنس ایکسی لینس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چیمبرز اپنے ممبران کی استعداد کار میں اضافہ کریں اور عالمی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو برآمدات بڑھانے کے لئے اپنا کردار مزید موثر بنانا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بیوروکریسی کا پیچیدہ نظام ہے، حکومت سول سروس اصلاحات لا رہی ہے تاکہ انتظامی نظام عوامی سہولت اور کاروبار کے فروغ کے لئے کام کرے، ہمیں پلاٹوں کی معیشت کی بجائے صنعت، پیداوار اور برآمدات کو فروغ دینا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ فیصل آباد کی صنعتیں اپنی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ کریں، حکومت آئندہ سال فیصل آباد میں ایکسپو سینٹر کے قیام کے لئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے فیصل آباد ایکسپو سینٹر کے قیام کی سفارش کریں گے جبکہ شہر کے ٹیکس اور آر ٹی او سے متعلق مسائل بھی وزیراعظم کے علم میں لائے جائیں گے۔ فیصل آباد ایئرپورٹ کے مطالبے سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ فیصل آباد کو بہترین سہولیات کی فراہمی اس کا حق ہے، حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔

انہوں نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی برآمدات بڑھائیں، وزارت منصوبہ بندی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور حکومت میں سی پیک کے تحت پاکستان میں 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی اور سی پیک کے تحت ملک میں 9 صنعتی زونز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم 2018 کی تبدیلی نے اس عمل پر پانی پھیر دیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2017 میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں پیشنگوئی کی گئی تھی کہ ملک 2030 تک دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہوسکتا ہے لیکن 2018 کے بعد سیاسی عدم استحکام نے پاکستان کی معاشی ترقی کو شدید متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ 2022 میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، ہم نے اپنی سیاست دائو پر لگا کر معیشت کو بچایا اور سیاسی مفاد پر پاکستان کے معاشی مفاد کو ترجیح دی، آج پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے بہت دور اور دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، دنیا آج پاکستان کی معاشی بحالی کی بات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، اب اڑان پاکستان کے اصل اہداف کی طرف بڑھنا ہے، اڑان پاکستان کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد اب معرکہ معیشت میں کامیابی حاصل کرنا لازم ہے، دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ دنیا میں ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام اور اصلاحات ضروری ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں ٹی وی کی سکرینوں پر جدید پروڈکشن لائنیں دکھانی ہیں، فسادیوں کے جتھے نہیں، پاکستان کو عالمی سطح پر پیداوار، معیار اور جدت کی دوڑ جیتنا ہے۔