مقبوضہ کشمیر، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور ان کی بلاجواز گرفتاریاں اظہار رائے کی آزادی پر کاری ضرب ہے، صحافیوں کےخلاف کارروائیاں صحافیوں کو خاموش کرانے کی کوشش ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا

سرینگر ۔ 12ستمبر (اے پی پی) ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور انہیں بلا جواز طورپر قید کرنے کو اظہار رائے کی آزادی پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کے عہدیدار ظہور وانی نے ایک بیان میںکہا ہے کہ ہم وادی کشمیر میں ایک نئے قسم کی پابندی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جہاں صحافیوں کو …

سرینگر ۔ 12ستمبر (اے پی پی) ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور انہیں بلا جواز طورپر قید کرنے کو اظہار رائے کی آزادی پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کے عہدیدار ظہور وانی نے ایک بیان میںکہا ہے کہ ہم وادی کشمیر میں ایک نئے قسم کی پابندی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جہاں صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی پر قید کیا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری صحافی آصف سلطان کی حالیہ گرفتاری اور روزنامہ”کشمیر نریٹر“ کے مدیر کا ٹویٹر اکاﺅنٹ بند کرنے جیسے اقدامات جموں وکشمیر میںآزادی صحافت کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آصف سلطان جو کشمیر نریٹر اخبار کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں کی رہائش گاہ پر پولیس نے 27 اگست کو چھاپہ مارا اورا±س کی باضابطہ طور پر گرفتاری یکم ستمبر کو عمل میں لائی گئی، ا±سے 12 اگست کو بٹہ مالو میں فوج اورمجاہدین کے درمیان فائرنگ کے واقعے میں ملوث قراردیا گیا۔