مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجیوں نے 1989 سے اب تک 95,471 کشمیریوں کو شہیدکیا زخمی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جاری رپورٹ

سرینگر ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوںنے جنوری 1989سے اب تک اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 95ہزار471 بے گناہ کشمیریوں کو اپنا پیدائشی حق، حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں شہید کیا ہے جن میں سے 7ہزار135کو دوران حراست شہیدکیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی …

سرینگر ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوںنے جنوری 1989سے اب تک اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 95ہزار471 بے گناہ کشمیریوں کو اپنا پیدائشی حق، حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں شہید کیا ہے جن میں سے 7ہزار135کو دوران حراست شہیدکیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق قتل کے ان واقعات سے 22ہزار910خواتین بیوہ اورایک لاکھ 7ہزار780بچے یتیم ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران فوجیوں نے 11ہزار175خواتین کی بے حرمتی کی جبکہ ایک لاکھ9 ہزار451 مکانوںاور دیگر املاک کو تباہ کیا۔رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے بھارتی پولیس اور فوجیوں نے کم سے کم 8 ہزار کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کیا۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوںکی طرف سے پیلٹ گنز کی فائرنگ سے سکولوںکے ہزاروںطلباءو طالبات زخمی ہوئے ہیں جبکہ 19ماہ کی حبہ جان ،17سالہ الفت حمید ، 10سالہ آصف احمد ، 17سالہ بلال احمدبٹ، 16سالہ عاقب ظہور ، انشا مشتاق ،19سالہ طارق احمد گوجری اور فیضان اشرف تانترے سمیت درجنوں افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 128دنوں سے جاری لاک ڈاﺅن کے دوران دو خواتین اور تین لڑکوں سمیت 38کشمیری شہید ہوچکے ہیں جن میں سے سات کو حراست کے دوران شہید کیاگیا ۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال سے 859افراد شدید زخمی ہوئے ۔ فوجیوںنے اس دوران 39خواتین کی بے حرمتی بھی کی۔قابض انتظامیہ نے پانچ اگست کے بعد سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ علاقے کی دیگر بڑی مساجد میں کشمیری مسلمانوںکو نماز جمعہ ادا نہیں کرنے دی ہے اور محرم الحرام اور عید میلادالنبی کے جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔ لینڈ لائن ٹیلی فون اور پوسٹ پیڈ موبائل فون کنکشنوںکی جزوی بحالی کے باوجود انٹرنیٹ ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل فون سروسز مسلسل معطل ہیںاور موسم سرماکے آغاز کے ساتھ ہی کشمیریوںکی مشکلات میں بڑی حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔حریت رہنمائمحمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان ،سیدہ آسیہ اندرانی ،فہمیدہ صوفی،ناہیدہ نسرین ، الطاف احمد شاہ ، ایازمحمد اکبر ، پیر سیف اللہ ، راجہ معراج الدین کلوال ، شاہد الاسلا م ، فاروق احمد ڈار ، محمد اسلم وانی ، تاجر ظہور وٹالی، سیدشاہد یوسف شاہ، سید شکیل یوسف شاہ اور غلام محمد بٹ مسلسل نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربند کرہیں جبکہ حریت رہنماءمسرت عالم بٹ، بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم ، جنرل سیکریٹری محمد اشرف بٹ، امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر حمید فیاض ، ایڈووکیٹ زاہد علی ، جمعیت اہلحدیث مولانا مشتاق ویری ، بار کے ارکان ایڈووکیٹ نذیر احمد رونگا، ایڈووکیٹ ہلال اکبر لون ، مولانا برکاتی، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، گلزار احمد گلزار ،حکیم شوکت ، معراج نندہ، ظہوراحمد ، شکیل احمد بخشی ،بشیر کشمیری،نور محمد کلوال ، مشتاق اجمل ڈار، بشیر بویا، محمد امین منگلو، عبدالرشید منگلو، عبدالغنی بٹ ،محمد رفیق گنائی ، ظہور احمد بٹ، جاوید احمد بٹ، محمد اسحاق گنائی ، نذیر احمد شیخ، غلام محی الدین پیر ، اسد اللہ پرے ، عبدالاحد پرے ، فیرو ز احمدخان ، قاضی یاسر احمد، محمد یاسین خان ، جموںوکشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین ، صحافی آصف سلطان، قاضی شبلی،عمر فاروق بٹ، لطیف احمد کالو، ظفر الاسلام شاہ ، عمر فاروق ڈار ، سفیر احمد بٹ اور عبدالغنی ہارون کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظر بندہیں۔ سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ ، فارو ق عبداللہ، محبوبہ مفتی ، انجینئر رشید احمد اور سینکڑوں دیگر پارٹی رہنماءاور کارکن بھی چار اگست کے بعد سے مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو بھی مسلسل گھرمیں نظربند کررکھا ہے اور انہیں سیاسی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات سے خطاب اور نماز جمعہ ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ دریں اثنا حریت رہنماﺅں نے سرینگر میں جاری اپنے الگ الگ بیانات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابتر صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے اپنی ٹیمیں مقبوضہ علاقے بھیجیں اور تنازعہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں۔

مزید خبریں